آسٹریلیا کی حکومت نے شہریوں کے لیے روزانہ تین گھنٹے مفت بجلی فراہم کرنے کا بڑا اعلان کیا ہے۔ اس سہولت کے تحت صارفین تین گھنٹے کے دوران جتنی چاہیں بجلی استعمال کر سکیں گے اور ان سے کوئی بل وصول نہیں کیا جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حکومت نے سولر شیئر آفر کے نام سے ایک نیا پروگرام متعارف کرایا ہے جو جولائی 2026 سے شروع ہوگا۔ اس منصوبے کا مقصد عوام کو دوپہر کے وقت زیادہ بجلی استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے کیونکہ اس دوران سورج کی روشنی سے پیدا ہونے والی توانائی سب سے زیادہ دستیاب ہوتی ہے۔
حکام کے مطابق تین ریاستوں میں گھروں کو روزانہ تین گھنٹے مفت سولر بجلی فراہم کی جائے گی۔ اس سہولت کے دوران شہری اپنے ایئرکنڈیشنر، ہیٹر، واشنگ مشین، اوون یا الیکٹرک گاڑی باآسانی چارج کر سکیں گے اور انہیں کوئی اضافی خرچ ادا نہیں کرنا پڑے گا۔
آسٹریلیا میں سورج اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی مقررہ ہدف سے بڑھ چکی ہے، اسی لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ نظام میں موجود اضافی بجلی عوام کو مفت فراہم کی جائے۔
توانائی کے وزیر کرس بون نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف عوام کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ بجلی کے گرِڈ پر دباؤ بھی کم کرے گا۔
اے آئی نے بجلی کے بل بڑھا دیئے ،امریکی عوام پریشان
مفت بجلی حاصل کرنے کے لیے صارفین کے گھروں میں سمارٹ میٹر نصب ہونا ضروری ہے۔ جن گھروں میں یہ موجود نہیں، وہ اپنی بجلی کی کمپنی سے بلا معاوضہ تنصیب کی درخواست دے سکتے ہیں۔
مختلف کمپنیوں کے سولر شیئر پلانز ہوں گے جن کے لیے آسٹریلین انرجی ریگولیٹر کم سے کم شرائط طے کرے گا۔
یہ سہولت ان گھروں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی جو دن کے وقت بجلی زیادہ استعمال کرتے ہیں، جیسے کہ گھر سے کام کرنے والے افراد، ریٹائرڈ شہری یا وہ لوگ جن کے پاس ایسے سمارٹ آلات ہیں جو خودکار طور پر دوپہر کے اوقات میں چل سکتے ہیں۔
