لندن، برطانیہ میں پناہ کی درخواستوں میں یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2024 کے دوران برطانیہ میں پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ فرانس اورجرمنی میں اس کے برعکس پناہ کی درخواستوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طورپریورپ میں ہجرت کے رجحان میں کمی آئی ہے، تاہم برطانیہ میں پناہ کی درخواستوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔
برطانیہ کے امیرترین شخص گوپی چند ہندوجا 85 برس کی عمر میں لندن میں انتقال کر گئے
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تنازعات، جنگوں اورسیاسی عدم استحکام نے اس اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
برطانوی حکومت نے اس صورتحال کے پیش نظرغیر قانونی ہجرت روکنے کے لیے نئے قوانین متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت کی سخت امیگریشن پالیسیوں پرتنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات پناہ کے متلاشی افراد کے بنیادی حقوق کو متاثرکرسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں پناہ کی درخواستوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت نے قانونی راستوں سے ہجرت کے نظام کو بہتر بنانے کا عندیہ دیا ہے۔
