خبر ایجنسی کے مطابق فرانس میں حکومت مخالف مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے اور پیرس سمیت متعدد بڑے شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں
اطلاعات کے مطابق سیکڑوں مظاہرین کے احتجاج کے باعث ٹرانسپورٹ، تعلیمی ادارے اورصحت کی سہولیات بری طرح متاثرہوئی ہیں، ملک کے ڈھائی سو سے زائد مقامات پر بیک وقت احتجاج جاری ہے جس میں پولیس اورمظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔
مظاہرین حکومت کی پالیسیوں اورمہنگائی کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں جبکہ مختلف جگہوں پرسڑکیں بند ہونے اور پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اسپتالوں اورتعلیمی اداروں کی سرگرمیاں بھی متاثرہورہی ہیں جس سے روزمرہ زندگی مفلوج ہو کررہ گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ملک بھر میں مظاہروں کو قابو میں لانے اورامن و امان قائم رکھنے کے لیے 80 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
کئی مقامات پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اورواٹر کینن کا استعمال کیا تاہم احتجاج کرنے والے مزید لوگ سڑکوں پر آ گئے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مظاہروں کا یہ سلسلہ حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن گیا ہے اوراگرمسائل کا فوری حل نہ نکالا گیا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
گوجرانوالہ، زہریلا کھانا کھانے سے4 بچے جاں بحق، فارنزک رپورٹ میں زہر کی تصدیق
عوامی غم وغصہ اوربڑھتی بے چینی نے یورپ کی اس بڑی معیشت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
