پاکستان اور بھارت کے باسمتی چاول اگانے والے اہم علاقوں میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب نے چاول کی فصل کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں باسمتی چاول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
کویت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت دنیا کے واحد دو ممالک ہیں جو خوشبودار اور اعلیٰ معیار کے باسمتی چاول اگاتے ہیں، جو کہ دیگر اقسام کے چاولوں کے مقابلے میں دوگنی قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔ یہ چاول بالخصوص برطانیہ، مشرق وسطیٰ اور امریکہ کو برآمد کیے جاتے ہیں۔
دانیہ شاہ اور اسکے شوہر کا شادی کے ایک برس بعد ولیمہ، ناچ گانے کی محفل،ویڈیو شیئر کرنے پر طلبی
حالیہ بارشوں کے باعث بھارت کی ریاستوں پنجاب اور ہریانہ، اور پاکستان کے پنجاب صوبے میں دریائے راوی، چناب، ستلج اور بیاس کی طغیانی نے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق، صرف پنجاب اور ہریانہ میں چاول، کپاس اور دالوں کی فصلیں تقریباً 10 لاکھ ہیکٹر رقبے پر متاثر ہوئی ہیں۔
برآمد کنندگان اور ماہرین کے مطابق، فصل کی کٹائی سے صرف چند ہفتے قبل یہ قدرتی آفت کسانوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ لطیف رائس ملز کے برآمدی منیجر ابراہیم شفیق نے بتایا “پاکستان میں باسمتی چاول کی فصل کا تقریباً 20 فیصد نقصان ہوا ہے، جس سے مقامی اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے” ۔
ایشیا کپ:میچ کا پانسہ پلٹنے والے 5 کرکٹرز
اوالم ایگری انڈیا کے سینیئر نائب صدر نتن گپتا کے مطابق، حالیہ دنوں میں چاول کی قیمت میں 50 ڈالر فی ٹن تک اضافہ ہوا ہے، اور اگر فصلوں کو مزید نقصان پہنچا تو یہ اضافہ جاری رہ سکتا ہے۔
تاہم کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ قیمتوں میں اضافہ وقتی ہے، جو صرف فصل کے نقصان کی خبروں پر مبنی ہے، اور نئی فصل مارکیٹ میں آنے کے بعد قیمتیں مستحکم ہو سکتی ہیں۔
پاکستان بمقابلہ سری لنکا ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کا اعلان
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں مزید بارشیں نہ ہوئیں تو مجموعی نقصان محدود رہنے کی امید ہے، لیکن سیلاب سے پیدا ہونے والی موجودہ غیر یقینی صورتحال نے کسانوں اور برآمد کنندگان دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
