پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کیلئے فوری زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب کے باعث سب سے زیادہ نقصان کسان طبقے کو اٹھانا پڑا ہے، جن کی فصلیں، مویشی، کھیت اورذریعہ معاش پانی میں بہہ گئے ہیں۔
برطانوی نائب وزیراعظم انجیلا رینر مستعفی
بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کسانوں کو بیج، کھاد، زرعی ادویات اور دیگر زرعی ساز و سامان فوری طورپرمفت فراہم کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ اپنی زمینوں پرکاشتکاری کا عمل شروع کرسکی۔
انہوں نے وزیراعظم پاکستان سے اپیل کی کہ متاثرہ علاقوں میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت فوری کیش امداد شروع کی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف مل سکے۔
مرکزقومی بچت کا نظام بیٹھ گیا، کروڑوں صارفین پریشان
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت وفاقی تعاون سے 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا عمل شروع کر چکی ہے اور پنجاب سمیت دیگرمتاثرہ علاقوں میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کی ضرورت ہے۔
کسان معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں انکی بحالی کے بغیر ملکی معیشت کھڑی نہیں ہو سکتی، اس لیے حکومت فوری طور پر زرعی بحالی پیکج کا اعلان کرے۔
بلاول بھٹو نے پنجاب حکومت خصوصاً وزیراعلیٰ مریم نواز کے سیلاب کے دوران کردارکوسراہا انہوں نے خود فیلڈ میں جا کرعوام کے درمیان وقت گزارا، مسائل سنے اور ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کی جو قابلِ تحسین ہے۔
خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث بھی جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں اوران علاقوں میں بھی امدادی کارروائیاں تیزکرنی ہوں گی۔
