اسلام آباد (فرحان بخاری) موسمیاتی بحران کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کو دو ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان اس سال شدید بارشوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے کا سامنا کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑے نقصانات سے نمٹنے کے لیے ملک کو بھاری مالی وسائل درکار ہیں۔
آج جاری کی گئی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، پاکستان بھر میں بارش سے جُڑے حادثات میں کم از کم 200 افراد ہلاک جبکہ 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ”کلاؤڈ برسٹ“ یعنی اچانک شدید بارشوں کے واقعات پیش آئے، جو اس بگڑتے موسمی رجحان کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بھی بہت زیادہ ہوا ہے جو آئندہ دنوں میں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔
اقوام متحدہ کی 2024 کی رپورٹ ”کامن کنٹری اینالیسز“ کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور اس کے مطابق ڈھلنے کے لیے 2030 تک 348 ارب امریکی ڈالر درکار ہوں گے۔
مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ 25 جولائی تک جاری رہے گا، عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایات
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، ”پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں، لیکن اس کے باوجود پاکستان بین الاقوامی موسمیاتی مالیاتی نظام تک مکمل رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ ملک کے نجی شعبے کی شراکت بھی نہایت کم ہے۔“
ان مالی تخمینوں میں 152 ارب ڈالر ماحولیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی اور مزاحمت کے لیے اور 196 ارب ڈالر ڈی کاربونائزیشن یعنی کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے درکار ہوں گے۔
فی الحال یہ مالی ضرورت پاکستان کی اپنی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے جبکہ عالمی برادری کا رویہ بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کو اس فرق کو پورا کرنے کے لیے خاطرخواہ بین الاقوامی امداد ملنے کے امکانات کم ہیں۔
مزید براں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال بین الاقوامی اداروں سے تعاون واپس لینے کے فیصلے نے اس امداد پر مزید شکوک پیدا کر دیے ہیں۔موسمیاتی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو فوری طور پر دو باہم مربوط ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔
پہلا قدم:
پاکستان اپنے زرعی شعبے کی مزید زبوں حالی کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے اہم اثرات اسی شعبے سے جُڑے ہوئے ہیں۔ کئی سالوں سے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار کم ہو رہی ہے اور حکومتیں مسلسل اس شعبے کو نظر انداز کرتی آئی ہیں۔
2024 میں ایک بڑی پالیسی ناکامی اس وقت سامنے آئی جب پنجاب حکومت، جو پاکستان کے سب سے بڑے زرعی صوبے کو کنٹرول کرتی ہے، نے پہلے گندم کے لیے 3900 روپے فی من قیمت مقرر کی، لیکن فصل کی کٹائی کے بعد اس فیصلے کو اچانک واپس لے لیا۔
پاکستان بھر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، چھوٹے کسان آج بھی پچھلے سال کی گندم کی فصل کی وجہ سے قرض تلے دبے ہوئے ہیں۔ دوسری فصلیں بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی وجہ سے پیداوار میں کمی کا شکار ہیں۔
خیبرپختونخوا میں بارش ، مختلف حادثات میں 10 افراد جاں بحق
اس کے علاوہ، جنگلات کی کٹائی نے موسمیاتی بگاڑ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، ضروری ہے کہ کسانوں پر مالی دباؤ کم کیا جائے تاکہ پاکستان کے موسمی حالات کو بہتر بنایا جا سکے۔
دوسرا قدم:
پاکستان کو اپنی ترقیاتی ترجیحات میں بنیادی تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی ایک وجودی خطرہ بن چکی ہے، اس لیے ملک کو تمام دستیاب وسائل موسمیاتی خطرات سے نمٹنے پر مرکوز کرنے ہوں گے۔
گزشتہ پانچ سالوں میں خوراک کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے ملک میں ایسی غذائی قلت پیدا کی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی اور یہ صورتحال زرعی شعبے کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
مستقبل کے سفر میں پاکستان کو دیگر ترقیاتی منصوبوں، خاص طور پر سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کو وقتی طور پر روک دینا چاہیے۔
یہ صرف اس لیے ضروری نہیں کہ توجہ ان شعبوں پر مرکوز ہو جن کی اشد ضرورت ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے پاکستان کو بچانا قومی بقا کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
