ویسٹ انڈیز کے سابق مایہ ناز بلے باز کرس گیل نے جنوبی افریقی آل راؤنڈر ویان ملڈر کی جانب سے 367 رنز پر اننگز ڈکلیئر کرنے کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔
ملڈر نے یہ فیصلہ لیجنڈری بلے باز برائن لارا کا 400 رنز کا عالمی ریکارڈ برقرار رکھنے کے لیے کیا تھا۔
27 سالہ ویان ملڈر، جو پہلی بار ٹیسٹ کرکٹ میں جنوبی افریقہ کی قیادت کر رہے تھے، اپنی شاندار اننگز کے دوران کئی ریکارڈز توڑ چکے تھے اور وہ جنوبی افریقہ کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑی انفرادی اننگز کھیلنے والے کھلاڑی بن گئے، انہوں نے ہاشم آملہ کا ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
ملڈر برائن لارا کے 400 رنز کے عالمی ریکارڈ کے قریب پہنچ چکے تھے، تاہم انہوں نے خود ہی اننگز ڈکلیئر کر دی۔ بعد ازاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ انہوں نے جان بوجھ کر برائن لارا کو ان کا ریکارڈ برقرار رکھنے دیا۔
ویان ملڈر نے کہا، “سچ کہوں تو میں نے کبھی خواب میں بھی ڈبل سنچری کا نہیں سوچا تھا، ٹرپل سنچری تو بہت دور کی بات ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے ٹیم کو جیت کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔ برائن لارا ایک لیجنڈ ہیں، اور اُن کا 400 یا 401 رنز کا ریکارڈ ہے۔ میں نے کوچ شکری کونراڈ سے بات کی، اور فیصلہ کیا کہ ایسے ریکارڈز لیجنڈز کے پاس ہی رہنے چاہئیں۔”
نیوزی لینڈ کے فن ایلن نے کرس گیل کے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ توڑ دیا
تاہم لارا کے سابق ساتھی کرس گیل اس فیصلے سے ناخوش نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں ایسی کوئی موقع ملتا تو وہ ضرور 400 رنز مکمل کرنے کی کوشش کرتے۔
کرس گیل نے کہا، “اگر مجھے کبھی 400 رنز بنانے کا موقع ملتا تو میں وہ موقع ضائع نہ کرتا۔ یہ مواقع بار بار نہیں آتے۔ آپ کو معلوم نہیں کہ دوبارہ کبھی ٹرپل سنچری بنانے کا موقع ملے گا یا نہیں۔ جب ایسا موقع ملے، تو پوری کوشش کرنی چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ 367 پر کھیل رہے ہیں، تو لازمی طور پر آپ کو ریکارڈ پر جانا چاہیے تھا۔ اگر آپ کو لیجنڈ بننا ہے تو ریکارڈز ہی وہ چیز ہوتے ہیں جو آپ کو لیجنڈ بناتے ہیں۔”
اگرچہ گیل نے ملڈر کے جذبے کو سراہا، تاہم انہوں نے اسے ایک بڑی غلطی قرار دیا۔
انہوں نے کہا، “میرے خیال میں یہ اُن کی جانب سے ایک بڑی غلطی تھی کہ انہوں نے کوشش تک نہیں کی۔ ہمیں معلوم نہیں کہ وہ 400 بنا پاتے یا نہیں، لیکن 367 پر ڈکلیئر کرنا اور صرف یہ کہنا کہ آپ نے لیجنڈ کو عزت دی — نہیں، یہ موقع دوبارہ نہیں ملتا۔”
گیل نے مزید کہا، “یہ وہی ٹیسٹ کرکٹ ہے، کبھی آپ زمبابوے جیسی ٹیم کے خلاف بھی ایک رن نہیں بنا پاتے۔ اس لیے کسی بھی ٹیم کے خلاف بننے والا سو، ڈبل یا ٹرپل — یہ سب ٹیسٹ کرکٹ کی کامیابیاں ہیں۔”
“سیدھی سی بات ہے، وہ گھبرا گئے اور اُن سے بڑی بھول ہو گئی۔”
