پارٹی قیادت پر تنقیدنہ کریں،پی ٹی آئی رہنماؤں کی فواد چوہدری سے درخواست

fawad chaudhry

پی ٹی آئی کی سینئر قیادت نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری سے رابطہ کیا ہے۔

پارٹی رہنمائوں نے فواد چوہدری سے پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت پر تنقید نہ کرنے کی درخواست کی ہے ، فواد چوہدری کا اس  موقع پر کہنا تھا موجودہ پالیسی کے تحت سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی ممکن نہیں۔

پنجاب حکومت نے بیان حلفی اسٹامپ پیپرز کی فیس میں اضافہ کر دیا

سینئر قیادت نے کہا ہمارا ایجنڈا سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو جلد رہا کرنا اور عوامی مینڈیٹ واپس دلانا ہے، فواد چوہدری اور پی ٹی آئی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ صورتحال میں اپوزیشن کا متحد ہونا ضروری ہے۔پی ٹی آئی قیادت نے فواد چوہدری کی مثبت تجاویز پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

علاوہ ازیں فواد چوہدری سے پی ٹی آئی بیٹ رپورٹرز نے ملاقات کی ،ملاقات کے دوران فواد چوہدری نے صحافیوں کے سوالوں پر اہم گفتگو کی ۔

فواد چوہدری نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسد قیصر، علی امین گنڈاپور نے میرے سے رابطہ کیا،موجودہ پالیسی کے تحت اگلے 13 ماہ بھی بانی چیئرمین پی ٹی آئی جیل سے باہر نہیں نکل سکتے۔

غذائی تحفظ کے شعبے میں پاکستان کیساتھ تعاون بڑھائیں گے ، روسی صدر

اپوزیشن نے حکومت کو مجبور کرنا ہے کہ وہ آپ سے بات کرے۔یہ حکومت سیاسی، اخلاقی اور قانونی اعتبار سے ہار چکی ہے،اب بس فزیکلی حکومت لینے لینا باقی رہ گیا ہے۔

میں نے جیل سے نکل کر اسد قیصر سے فون پر بات کی کہ ہمیں مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کرکہ الائنس قائم کرنا چاہیے،جیل میں بیٹھے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو بہترین مشورہ اور معلومات چاہیے۔

موجودہ قیادت بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو نہ کوئی مشورہ دے سکتی ہے نہ یہ معلومات صیحح پہنچا رہے ہیں،انہوں نے احتجاج کا موقع ضائع کردیا،9 مئی کو احتجاج کرنا بنتا تھا۔

وفاقی بجٹ کے بعد ٹیٹرا پیک دودھ کی نئی قیمتیں جاری

لیاقت چھٹہ کے پیچھے پوری پارٹی کو کھڑے ہونا چاہیے تھا،لیاقت چھٹہ کے بیان کو صیحح طریقے سے ٹیکل نہیں کیا گیا،اس قیادت میں صلاحیت نہیں ہے۔

چند افراد احتجاج کرتے ہیں،وکلاء اپنی بیل کروا لیتے ہیں،ہزاروں لوگ 9 مئی کے بعد تباہ ہوئے،لوگوں کے ہمارے سمیت گھر توڑے گئے ، کاروبار تباہ کر دئیے گئےْ

اگر مولانا فضل الرحمان ، جماعت اسلامی اور اچکزئی پی ٹی آئی کے ساتھ مل جاتے ہیں تو حکومت اس تحریک کا بھار نہیں سہہ سکتی،انہوں نے مزید بتایا کہ میری مولانا فضل الرحمان سے ڈھائی گھنٹے کی دو ملاقاتیوں ہوئیں، میری حافظ نعیم الرحمن سے بھی 2 ملاقاتیں ہوئیں وہ پی ٹی آئی سے الائینس قائم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

گریڈ ایک سے 19 کی 346 اسامیوں پر بھرتی کی منظوری

ہمیں اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کا عہدہ جے یو آئی کو دینا چاہیے،ہمیں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا عہدہ بھی جمعیت علمائے اسلام کو دینا چاہیے،جب تک یہ الائینس نہیں بنتا حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگے گی۔

میرا علیم خان اور جہانگیر ترین سے بہت اچھا تعلق تھا،میں اب بھی چاہتا  تو فارم 47 والا جیت کر وزیر بن سکتا تھا لیکن ہم ایسی سیاست نہیں کرتے،ہم قومی سطح کی سیاست کرتے ہیں۔

شبلی فراز کی بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے وفاداری میں کوئی شک نہیں،شبلی فراز خان صاحب کا بہت وفادار ہےلیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس میں صلاحیت کی کمی ہے۔

شبلی فراز ، روف حسن جیسے لوگوں نے کوئی قربانی نہیں دی،بیرسٹر گوہر ایک شریف آدمی ہیں لیکن ان میں سیاست کی اتنی صلاحیت نہیں ہے،شاہ محمود قریشی اور چوہدری پرویز الٰہی جیسے لوگوں کو تھوڑی سی بھی سپیس ملے تو حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔

آئی سی سی نے نئی ٹی 20رینکنگ جاری کر دی

تحریک انصاف آج جو کچھ بھی ہے وہ نیشنل اسمبلی اور پنجاب اسمبلی سے باہر نکلنے کی وجہ سے ہے،نظام کے اندر رہ کر نہیں لڑا جاسکتا،اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ بہترین تھا۔

جہاں اسمبلیاں تحلیل نہیں کیں وہاں کیا حال ہوا پارٹی کا؟؟بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے باہر نکلنے کا مطلب یہ نظام ہیک اپ ہے،جب وہ باہر آئے تو پشاور سے لاہور تک سر ہی سر ہوں گے۔

یہ نظام بانی چیئرمین کی رہائی برداشت نہیں کرسکتا۔ہمیں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو زبردستی نکالنا پڑے گا،اوورسیز پاکستانیوں کو سیلیوٹ پیش کرتے ہیں جس طرح وہ پی ٹی آئی کے لیے کھڑے ہوئے۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں