عدت نکاح کیس، بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

عدت نکاح کیس

عدالت نے عدت نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی اوران کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

عدت میں نکاح کیس میں جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے ہیں کہ عموما عدالتیں 5 سال تک کی سزا کو مختصر سزا کہتی ہیں، سپریم کورٹ ججمنٹ کے حوالے سے میرے سوال ہیں، جن نکات کی بات کی گئی تھی وہ پانچ رکنی بینچ کالعدم قرار دے چکا ہے، میں نے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے اور قانون کے مطابق ہوگا۔

دورانِ عدت اگر خاوند مر جاتا ہے تو کیا خاتون کو وراثت میں حصہ ملے گا؟ اس سوال کے حوالے سے مرکزی اپیل پر مجھے مطمئن کرنا ہے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی عدت نکاح کیس میں سزا معطلی اور مرکزی ایپلوں کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

وفاقی کابینہ نے آپریشن عزم استحکام کی توثیق کر دی

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے درخواستوں پر سماعت کی، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ میں سزا معطلی کی درخواست پر 7 منٹ دلائل دوں گا، شکایت کنندہ کو اس سے کم وقت میں بھی دلائل دینے چاہیے، آج مرکزی اپیل اور سزا معطلی کی اپیل زیر سماعت ہے، میری ذمہ داری عدالت کو بتانا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کون ہیں، ان اپیلوں پر پہلے 15 سے زائد سماعتیں 3 ماہ میں ہوچکی ہیں، اس کیس میں کبھی شکایت کنندہ اور کبھی پراسکیوشن نے کہا کیس پڑھنا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیس میں کچھ نہیں، مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ سزا معطلی کی درخواست پر دلائل کیسے دیتے ہیں۔

خاور مانیکا کی وکیل زاہد آصف نے کہا کہ سلمان صفدر ایک قابل وکیل ہیں اور ہر جگہ انکی تعریف کی۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ اپیل کنندہ سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہیں، الیکشن سے قبل بانی پی ٹی آئی کو سزا سنائی گئی، بانی پی ٹی آئی کے خلاف بے شمار کیسز بنائے گئے ہیں، بانی پی ٹی آئی کے کیسز سے میں نے بہت کچھ سیکھا، ایسی یونیک پراسیکیوشن میں نے آج تک نہیں کی، متعدد کیسز عدالتوں نے اڑا دیے۔

سائفر کیس، توشہ خانہ کیس اور پھر نکاح کیس میں سزا دی گئی جیسے سینما کی اسکرین کا ٹائم۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ مجھے اس کیس کے شکایت کنندہ سے بھی ہمدردی ہے، سائفر کیس ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھا تو عدالت نے کہا مرکزی اپیل سنیں یا سزا معطلی کی، میں نے کہا مرکزی اپیل ورنہ میرے لئے آسان تھا سزا معطلی پر دلائل دیتا، سائفر کیس کا ابھی تفصیلی فیصلہ نہیں آیا مگر اپیل دائر کر دی گئی۔

پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کیلئے الگ اصول اپنایا گیا، جسٹس منیب اختر

سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ٹرائل میں ہمارے وکلا کو باہر نکالا گیا دیر تک سماعتیں چلیں، ہائیکورٹ کیلئے آسان تھا کیس ریمانڈ بیک کرنا مگر نہیں ہوا میرٹ پر فیصلہ ہوا، سائفر کے بعد توشہ خانہ کیس سامنے آیا اور اس کیس میں بھی دوسرے طرف کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواست پر اعتراض نہیں کیا، مجھے امید ہے آج بھی دوسری طرف کے وکیل یہی کریں گے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ سیشن جج شاہ رخ ارجمند کے پاس بھی مرکزی اپیلیں اور سزا معطلی کی درخواستیں آئی، جب فیصلہ آنا تھا تو ریفرنس بن جاتا ہے اس کے بعد کیس آپ کے پاس آتا ہے، مجھے نہیں معلوم عدالت نے کیا فیصلہ کرنا ہے مگر جو بھی فیصلہ آیا میں سن کر چلا جاؤں گا، مجھے اختلاف ہوگا تو میں اپیل میں چلا جاؤں گا، سلمان اکرم راجہ نے ٹھیک کہا تھا کہ میں اس کیس میں پیش ہوتا رہا مجھے فیصلہ چاہیے۔

جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ آپ میڈیکل گراؤنڈ پر بھی سزا معطلی کی درخواست کریں گے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ اس حوالے سے میں آخر میں بات کروں گا، جب آخری دفعہ بشری بی بی سے ملا تو انکے پاؤں پر سوجن تھی، میری کلائنٹ بنی گالا کے اے سی بند کرکے جیل گئی، جس پر وکیل خاور مانیکا زاہد آصف نے کہا کہ پھر تو جیل ان کے لیے ٹھیک ہے وہی رہیں۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ اگر اپیلیں ڈسٹرکٹ کورٹس میں زیر سماعت ہوں تب بھی ہائیکورٹ کے پاس سزا معطلی کے اختیارات ہیں، میری کوشش تھی بشری بی بی عید سے پہلے گھر آجاتیں، سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ وہی جج فیصلہ کریں جنہوں نے کیس سنا، جب ہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں گئے تو ایک ایک چیز بتائی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ مکمل طور پر آگاہ ہے کہ نیچے کیا چل رہا ہے، شکایت کنندہ بار بار تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔

سلمان صفدر نے عدالت میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا، وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 10 روز میں سزا معطلی اور 30 دن میں مرکزی اپیلوں پر فیصلے کا کہا ہوا ہے، جب سزا دینی ہو تب فٹا فٹ اور اپیل پر دھیرے دھیرے، اب میں سزا معطلی کی درخواست کے لیگل معاملات پر آتا ہوں، ہم نے اصول سیکھا ہے اپیل میں ججمنٹ پڑھتے ہیں، آپ جیل میں کریمینل کیسز کے لیے اکثر جاتے ہیں، میں جیل میں بے نظیر کیس اور اجمل قصاب کیس کے لیے جاتا رہا مگر اب عدت کیس میں جانا پڑا کبھی لکھا تو اس کیس پر ضرور لکھوں گا۔

جسٹس شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شاہد بلال حسن نے بطور جج سپریم کورٹ حلف اٹھا لیا

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عثمان گِل نے عون چوہدری سے پوچھا آپ نے گھڑی کونسی پہنی تو لڑائی ہوگئی، جج صاحب نے بھی کہا اس سوال کا اس کیس سے کیا تعلق، میں نے کہا میں بتاتا ہوں اس سوال کا مقصد یہ بتائیں گھڑی پر ٹائم کیا ہے تو 8 بجے ہوئے تھے، اس وقت بھی ہماری جرح کا آغاز ہوا تھا، مجھے شکایت کنندہ سے بھی ہمدردی ہے پتہ نہیں ان کی کیا مجبوری ہے، ابھی تک ہائی کورٹ کا سائفر کا تفصیلی فیصلہ نہیں آیا اور سپریم کورٹ میں سائفر کیس میں اپیل بھی دائر ہو گئی۔

وکیل نے دلائل میں کہا کہ ہائی کورٹ کے ججز نے کہا اس طرح کا کیس کبھی نہیں آیا ایک سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر خارجہ کو چارج کیا گیا ہو، توشہ خانہ کیس میں صرف تین منٹ میں سزا معطل ہوئی اور آج بھی یہی امید ہے، دوران عدت نکاح کیس میں شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں بھی بہت دقتیں پیش آئیں عدالت نے تحمل سے کام لیا، مجھے نہیں معلوم آپ نے کیا فیصلہ کرنا ہے ضمانت دینی ہے یا مسترد کرنی ہے میں آپ کے فیصلے کا احترام کروں گا، میں خاتون ایک ماں کی نمائندگی کر رہا ہوں جو مسلسل شکایت کر رہی ہے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ الزام ہے کہ عدت پوری کیے بغیر نکاح کیا گیا، اگر دو خاوند دعوی کرتے یا بچوں کے حوالے سے کیس ہوتا تو سمجھ آتا، اس کیس میں تو بچے بھی شکایت کنندہ نہیں ہیں، درخواست گزار کہتا ہے میری ساری فیملی ڈسٹرب ہوئی ہے، استغاثہ کی آدھی باتیں 496 بی کے ختم ہونے پر ہی جھوٹی ثابت ہوگئیں، اس کیس کی اہمیت ہوتی اگر بروقت فائل کیا جاتا، اس درخواست میں اتنی تاخیر کی گئی جس کا کوئی عدالتی حوالہ ہی نہیں، میں اس بات کو ایک طرف رکھتا ہوں کہ عدت کا ٹائم کتنا ہوتا ہے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ اس حوالے سے دیگر کیسز وہ ہوں گے جن میں درخواست بروقت ہوگی، دوسرے کیسز میں گواہان کو پیش کرنے کا پورا موقع ملا ہوگا اور اس کیس کے پورے تناظر کو بھی دیکھنا ہوگا، سب سے مضبوط گراؤنڈ ہے کہ 496 بنتا کیسے ہے، فراڈ اور دھوکا کس کے ساتھ ہوا ہے، عدت کے اندر شادی کرنا کوئی جرم نہیں ہے 7 سال سزا تو دور کی بات ہے، ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں بے ضابطگیاں کی گئیں، اپیل کنندہ کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے دلائل مکمل کر لیے گئے۔

حکومت کا یکم جولائی سے گیس قیمتوں میں کمی نہ کرنے کا فیصلہ

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ سزا شارٹ ٹرم نہیں ہے جبکہ زاہد آصف کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے کیسز کا حوالہ دیا گیا،اس موقع ہر عدالت نے دریافت کیا کہ پچھلی تاریخ پر میں نے سوال پوچھا تھا کہ آپ کے کلائنٹ کو شادی کا کب پتا چلا؟ وکیل نے جواب دیا کہ خاور مانیکا نے کراس ایگزامن میں بتایا کہ 2 جنوری کو پتا چلا تھا۔

عدالت نے کہا کہ تو پھر انہوں نے اسی وقت درخواست کیوں دائر نہیں کی؟ سلمان اکرم راجا نے کہا جب آپ کے کلائنٹ کا چلہ کروایا گیا تو اس کے بعد درخواست دائر کی گئی،اس پر وکیل نے کہا کہ جی نہیں ایسے حالات نہیں تھے، ایک تحقیقاتی ادارے نے تفتیش کے لیے انہیں گرفتار کیا تھا۔

اس پر جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ کیا شکایت کنندہ پر کوئی پریشر تھا یا دھمکی دی گئی تھی؟ اس حوالے سے پہلے درخواست کیوں نہیں دی گئی؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ شریف لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے فیملی معاملات پبلک نہ ہوں۔

خاور مانیکا کے وکیل نے بتایا کہ میں کچھ چیزوں پر ابھی دلائل نہیں دوں گا، اس حوالے سے صورہ طلاق کی آیات بڑی واضح ہیں، جج صاحب کے حوالے سے کہا گیا، تو کیا ان کے خلاف کوئی درخواست دی گئی تھی؟ اسی کے ساتھ شکایت کنندہ کے وکیل زاہد آصف نے سزا معطلی کی اپیل پر دلائل مکمل کر لیے۔

بعد ازاں عدالت نے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر سے استفسار کیا کہ مرکزی اپیل پر آپ کب میسر ہوں گے؟ سلمان صفدر نے بتایا کہ ہم مکمل فری ہیں، جج نے ریمارکس دیے کہ ہم 2 جولائی کو کیس کو رکھ رہے ہیں،اس کے بعد سلمان صفدر نے جواب الجواب دلائل کا آغاز کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ زاہد آصف ایڈووکیٹ کے دلائل میں صرف گانے کے سُر پکے تھے، آج شکایت کنندہ کے وکیل نے کہا دیگر سیکشن کا بھی اطلاق ہوتا ہے، سب چیزیں ایک طرف سزا معطلی کے لیے بشری بی بی کا خاتون ہونا ہی کافی ہے۔

اسی کے ساتھ عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔عدالت کی جانب سے سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ 27 جون کو 3 بجے سنایا جائے گا، اس کے علاوہ عدت میں نکاح کیس سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔


متعلقہ خبریں