موجودہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کی تاریخ کا آخری پروگرام ہوگا، وزیراعظم

shahbaz sharif

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا یا، مہنگائی 38 سے 12 فیصد تک گر گئی، قرضوں پر 22 فیصد انٹرسٹ ریٹ کم ہوکر 20 فیصد پر آگیا ہے، اگلے  ڈیڑھ دو ماہ میں مثبت نتائج لاؤں گا، ہم ہمسایہ ممالک کو پیچھے چھوڑیں گے۔ قوم سے عہد ہے پاکستان کا مستقبل روشن کرنے کیلئے کڑے سے کڑا فیصلہ کرونگا،کوئی دباؤ برداشت نہیں کرونگا،جو قربانی دینا پڑی مل کر دینگے، وعدہ ہے موجودہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کی تاریخ کا آخری پروگرام ہوگا.

وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں پوری دنیا کےمسلمانوں کوحج کے موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، آج فلسطین میں ظلم وستم ڈھایا جا رہا ہے، اس وقت غزہ میں 40ہزار افراد کو شہید کر دیا گیا ہے، شہید ہونے والوں میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں ۔ اسی طرح کشمیر کی وادی میں کشمیریوں پر ظلم ڈھائے جارہے ہیں، کشمیر میں ڈھائے جانے والے ظلم کی مثال بھی عصر حاضر میں نہیں ملتی۔

حکومتی اخراجات کم کرنے کے لئے 9 رکنی کمیٹی تشکیل

انہوں نے کہا کہ اپریل 2022 میں ہم نےاقتدار سنبھالا، معاشی صورتحال سب کے سامنے ہے، ہم نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا یا، اس کا سہرا نواز شریف اور 13 اتحادی جماعتوں کو جاتا ہے، اب معاشی مشکلات سے نکل کر پاکستان ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن ہے۔ پوری قوم کی نظریں حکومت پر جمی ہوئی ہیں۔ قوم دیکھ رہی ہے کہ ہم کیسے خوشحالی کا انقلاب لے کر آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 8فروری کے انتخابات کے بعد دوبارہ حکومت سنبھالی اور وزیر اعظم منتخب ہوا، ہماری کوششوں سے مہنگائی 38 سے 12 فیصد تک گر گئی، یہ معمولی ہے لیکن بہت خوش آئند تبدیلی ہے۔

قرضوں پر 22 فیصد انٹرسٹ ریٹ کم ہوکر 20 فیصد پر آگیا، جس سے سرمایہ کاری پر فرق پڑے گااور قرضوں کے حجم میں کمی آئے گی، ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج 100 دن ہماری حکومت کو پورے ہوچکے ہیں ، کل پیٹرول کی قیمتوں میں مزید کمی آئی ہے، تقریبا ساڑھے10 روپے فی لیٹر عوام کو فائدہ پہنچا، اور ڈیزل کی قیمت میں بھی ڈھائی روپے کمی آئی ہے، اس سےعوام کو کچھ ریلیف ملے گا، لیکن میں سمجھتا ہوں ابھی یہ ناکافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح پچھلے4 سال مہنگائی کےطوفان نے ایک وقت کی روٹی کو نا ممکن بنا دیا تھا اور بنیادی ضروریات کے حصول میں لوگوں کو تکلیف پہنچی تھی ، ہم محنت کر رہے ہیں تاکہ مہنگائی میں مزید کمی آئے ، ہم مشترکہ کاوشوں سے اس سوچ کو آگے لے کر بڑھ رہے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں ماضی میں جھانک کر رونے دھونے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، بلکہ ہمیں ماضی کے جھروکوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور سبق سیکھنا چاہئے کہ ہم نے ماضی میں کیا کھویا، اب ہمیں نے مل کر پاکستان کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلوانا ہوگایہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔

نیوزی لینڈ کے ٹرینٹ بولٹ کا ٹی ٹورئنٹی ورلڈ کپ کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان

انہوں نے کہا کہ امید ہے بہت جلد وہ مقام آئے گا، جس کا خواب قائد اعظم نے دیکھا تھا ، اس کیلئے ہم نہ صرف سنجیدہ ہیں، بلکہ میں پورے پاکستان کو یقین دلانا چاہتا ہےہم جی جان لگا کر محنت کریں گے ،ایثار اور قربانی کے جذبے سے کوئی مشکل ہمارے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گی، ہم صدق دل سے فیصلہ کر لیں کہ محنت سے ملک کی تقدیر بدلنی ہے،تو پھر کوئی ہمارا راستہ نہیں روک سکتا۔

انہوں نے کہا کہ شاہانہ اخراجات کاخاتمہ میری حکومت کی اولین ترجیح ہے، جن اداروں کا عوامی خدمت سے دور کا تعلق نہیں ان کا خاتمہ کریں گے، پی ڈبلیو ڈی، ان اداروں میں شامل ہے جو زمانے بھر میں کرپشن کے نام پر بدنام ہے، اس وزارت کے سالانہ الاؤنسز ملاکر اگر 2 ارب ہوں تو ترقیاتی فنڈز ان کے کئی سو اربوں میں ہیں اور اگر 100 ارب کا ترقیاتی فنڈ ہے تو 50 ارب کرپشن کی نظر ہوجاتے ہیں۔

ایسی تمام منسٹریز اور ادارے جو قوم پر بوجھ بن چکے ہیں ان کا خاتمہ ناگزیر ہوچکا ہے ، ان اداروں کو ختم کرنا میرافرض اولین ہے، میں قوم کو یقین دلاتا ہوں اگلے ڈیڑھ دو ماہ میں مثبت نتائج لاؤں گا، ایسے تمام ادارے جو عوام پر بوجھ بن چکے ہیں ان کا خاتمہ ہوگا، جس سے نہ صرف اربوں روپے کی بچت ہوگی، بلکہ یہ ملکی ترقی کی جانب یہ سنگ میل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میں ابھی چین کا دورہ کر کے آیا ہوں، چین پاکستان کا بااعتمادد وست ملک ہے، اس سے قبل برادر ممالک کے دورے کیے، سعودی عرب میں اربوں ڈالر کے معاہدے کیےگئے ہیں ، الیکشن سے پہلے نگران دور میں کاکڑ صاحب بھی گئےتھے۔

آرمی چیف بھی ان ممالک میں تشریف لے گئے تھے، آرمی چیف اربوں ڈالرز کی کمٹمنٹس لے کر آئے، سرمایہ کاری کے بڑے موقع سے فائدہ حاصل کرنے کیلئے پورا نظام وضع کر لیا ہے ، یہ سرمایہ کاری مختلف شعبوں میں اگلے مہینوں اور سالوں میں ہوگی، جن کے نتائج آپ کے سامنے آئیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے جو اہداف مقرر کیے ہیں ان کیلئے کمر کس لی ہے، نواز شریف نے2017میں آئی ایم ایف کو خیر باد کہہ دیا تھا، ہم جو پروگرام لینے جارہے ہیں، شاید پاکستان کی تاریخ کا آخری پروگرام ہوگا، ہم اپنے پاوں پر کھڑ ے ہوں گے، ہمسایہ ممالک کو پیچھے چھوڑیں گے، جرمنی اور جاپان دوسری جنگ عظیم کے بعد تہس نہس کر دیا گیا، انہوں نے اپنی شکست کومحنت میں بدل دیا ۔

سونے کی فی تولہ قیمت میں معمولی کمی

انہوں نے کہا کہ ہم ہر سال 3لاکھ نوجوانوں کو چین سے آئی ٹی کے حوالے سے ٹریننگ دلوائیں گے، اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا موقع ملے گا، انفارمیشن ٹیکنالوجی کو پاکستان میں پھیلائیں گے، پاکستان اس دور میں شریک ہوجائے، اس کے لیے اہم فیصلے کئے ہیں ۔

ہم نے صنعتوں کیلئے تقریبا ساڑھے 10روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت کم کی ہے، ان صنعتوں پر 200ارب روپے کا بوجھ کم ہوجائے گا، یقین ہے عالمی منڈیوں میں ہماری ایکسپورٹ کو فروغ ملے گا، اسٹاک ایکس چینج بجٹ کا اعلان ہونے کے بعد76ہزار پوائنٹس پر پہنچ گئی ہے ،کاروباری حضرات اور تمام گروپس نے بجٹ پر انڈورسمنٹ دی ہے۔ رئیل اسٹیٹ میں اربوں کھربوں کی سرمایہ کاری ہوئی ہے،رئیل اسٹیٹ میں اربوں روپے کے منافعے کمائے جارہے ہیں۔

دوسری طرف غریب روٹی کو ترس رہا ہے، اشرافیہ شاہانہ اخراجات کر رہے ہیں، غریب آدمی کیلئے بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے دو جوڑے، کھانے کی ایک ڈش ممکن نہیں، غریب اور امیر کے فرق کو کم نہیں کریں گے تو پاکستان دفاعی مملکت اور قائد کا ملک نہیں بن سکتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہواہے کہ آئندہ وقتوں میں پاکستان عظیم ملک بنے گا، تعلیم کے میدان میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا ہے ، پنجاب میں والدین کے پاس بچوں کی اعلی ٰتعلیم کیلئے وسائل نہیں تھے ۔ ہم نے حکومتی فنڈ بنادیا ہے وہ قائم ہوچکا ہے ۔

آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، فاٹا اور غریب عوام کیلئے اس فنڈ سے تعلیم کے دروازے کھل جائیں گے، ہم نے اگلے 5سال کے ایجنڈے کا آغاز کر دیا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ایسے ادارے جو ملک کیلئے خسارے کا باعث بن رہے ہیں ان کو پرائیوٹائز کریں گے، ان اداروں کو بیچ کر ملک کے منصوبے مکمل کریں گے، ملک میں آئی ٹی کا جال، داسو ڈیم ایسے منصوبوں جن پر ترقی کا انحصار ہے ان کو فروغ دیں گے، جہاں جہاں اخراجات کی بچت ہوسکتی ہے وہاں بچت کریں گے۔

حکومت پاکستان اب مزید کارخانے نہیں لگائے گی، کاروبار کو فروغ دینے کیلئے نجی شعبوں کی مدد کریں گے ، پرائیوٹ سیکٹر اس ملک میں تجارت،زراعت ،صنعت کو آگے لیکر چلیں گے ، ہم وہ کام کریں گے جس سے ہر جگہ چھاپ لگے گی میڈ ان پاکستان، یہ کوئی آسان راستہ نہیں لیکن ناممکن بھی نہیں ہے ۔

نئے بجٹ میں پیکیڈ دالوں اور چاول سمیت تمام بنیادی اشیاپر 18 فیصد جی ایس ٹی لگا دیا گیا

انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب بھی ترقی کا سفر شروع ہوا تو کوئی نہ کوئی سانحہ ہوا اوررکاوٹیں آئیں، دوبارہ ایسی کوئی صورت پاکستان کی ترقی کی رکاوٹ نہیں بنے گی، آپ کی محنت کا پھل اس دفعہ آپ کو ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم 5سال میں نوجوانوں کو تعلیم،ہنرمندی اور روزگار دیکر بے روزگاری کی کمر توڑ دیں گے، آزمائشوں سے گزرے بغیر زندگی میں خوشحالی اور کامیابی کی منزل حاصل نہیں ہوسکتی، ہمیں مسلسل محنت،جدوجہد،قربانی اور ایثار کو اپنا اوڑھنا پچھونا بنانا ہوگا،تب جا کر خوشحالی ہمارے قدموں کو چھوئے گی۔

پاکستان کا مستقبل تابناک کرنے کیلئے کڑے سے کڑا فیصلہ کروں گا، کوئی پریشر برداشت نہیں کروں ،جو قربانی دینی پڑے ہم دیں گے، پاکستان جلد عظیم قوم بنے گی مگر میں یہ کام اکیلا نہیں کرسکتا، آپ مجھ پر اعتماد کررہے ہیں، مجھے ہر قدم آپ کی رہنمائی اورمدد چاہئے ہوگی، آپ کی رہنمائی اور محبت اور آپ کا ساتھ میرے ساتھ ہر لمحے ہوگا۔ اس جدوجہد کاآغاز حکومت اور اشرافیہ سے کیا جا رہا ہے، آنے والے دنوں میں یہ سب آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔

وزیراعظم شہبازشریف نے خطاب کے اختتام پر قوم سے کہا کہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں بڑی تبدیلیاں ہونے والی ہیں، آئیں آج سب ملکر عہد کرے کہ پانچ سال میں ملک اورقوم کا مقدر بدل دیں گے، یہ باتوں سے نہیں بلکہ صرف کام اور کام سے ہو گا۔


متعلقہ خبریں