متنازعہ ٹوئٹ کیس،بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کیخلاف تادیبی کارروائی سے روک دیا گیا


اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے ٹویٹر سے شیخ مجیب الرحمان سے متعلق ٹویٹ کے کیس میں بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کیخلاف ایف آئی اے کو تادیبی کارروائی سے روک دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ رؤف حسن اور بیرسٹر گوہرایف آئی اے میں  پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرائیں۔

نیٹ میٹرنگ پالیسی ختم کرنے سے متعلق زیرگردش خبروں کی تردید

ایف آئی اے دونوں کو نہ ہراساں کرے اور نہ تادیبی کارروائی کرے ،ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرکے 25 جون تک جواب طلب کرلیا گیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ایف آئی اے طلبی نوٹسز کیخلاف تحریری حکم جاری کر دیا۔

قبل ازیں ایف آئی اے نے بیرسٹر گوہراور رؤف حسن کا بیان قلمبند کر لیا،ذرائع کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم نے رؤف حسن سے 4 گھنٹے تک تفتیش کی،بیرسٹر گوہر سے ایف آئی اے نے 2 گھنٹے تک سوالات کیے۔

7 جون کو ذی الحج کا چاند نظر آنے کا قوی امکان ہے، محکمہ موسمیات

تفتیشی ٹیم کی جانب سے بیرسٹر گو ہر اور رؤف حسن کو سوالنامہ دیا گیا، تفتیشی ٹیم  نے سوال کیا سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ کون چلاتا ہے؟سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ پر کس کی اجازت سے مواد اپلوڈ ہوتا ہے ؟متنازعہ ٹویٹ ابھی تک ڈیلیٹ نہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟

سپریم کورٹ میں موسم گرما کی تعطیلات میں ایک ماہ کی کمی

بیرسٹر گوہراور رؤف حسن نے جواب نامہ جمع کروا دیا،جواب نامہ جمع کروانے کے بعد بیان الگ سے ریکارڈ کروایا،ٹیم بیانات کا جائزہ لینے کے بعد دوبارہ طلب کرے گی،دوبارہ طلب کرنے پر پیش ہونے کی یقین دہانی بھی کروائی گئی۔


متعلقہ خبریں