آزاد امیدوار پی ٹی آئی میں شامل ہو سکتے تھے ، نشان والے فیصلے پر عوام کو گمراہ کیا گیا، جسٹس جمال مندو خیل

سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے کہ انتخابی نشان واپس ہونے پر تاثر دیا گیا کہ پی ٹی آئی ختم ہو گئی۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزاد امیدوار پی ٹی آئی میں شامل ہو سکتے تھے، بلے کے نشان والے فیصلے پر عوام کو گمراہ گائیڈ کیا گیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 ججز پر مشتمل فل کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ جسٹس مسرت ہلالی طبیعت ناسازی کے باعث فل کورٹ میں شامل نہیں تھیں۔

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کیلئے اپیلوں پر سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ یہاں دو مختلف درخواستیں عدالت کے سامنے ہیں جبکہ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ میں ہماری حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر ہے، سپریم کورٹ پہلی سماعت پر پشاور ہائیکورٹ کا متعلقہ فیصلہ معطل کر چکی ہے۔

اس کا مطلب ہے،  آپ سب اضافی ملی ہوئی نشستیں رکھنا چاہتے ہیں ، چیف جسٹس 

کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب نے فریق بننے کی متفرق درخواست دائر کی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا فیصل صدیقی کو دلائل مکمل کرنے دیں پھر آپ کوبھی سنیں گے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کیس میں فریق مخالف کون ہیں؟بینیفشری کون تھے جنہیں فریق بنایا گیا؟  جس پر فیصل صدیقی نے بتایا کہ جنہیں اضافی نشستیں دی گئیں وہی بینیفشری ہیں، مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے پوچھا قومی اسمبلی کی کتنی اور صوبائی اسمبلی کی کتنی نشستیں ہیں، تفصیل دے دیں؟ فیصل صدیقی نے بتایا قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی کی 55 نشستیں متنازع ہیں۔

سپریم کورٹ کی سماعت، چیف جسٹس اور جسٹس منیب کے درمیان ناخوشگوار جملوں کا تبادلہ

فیصل صدیقی نے بتایا کہ سندھ میں 2 نشستیں متنازع ہیں، ایک پیپلزپارٹی اور دوسری ایم کیو ایم کو ملی جبکہ پنجاب اسمبلی میں 21 نشستیں متنازع ہیں جس میں سے 19 نشستیں ن لیگ، ایک پیپلز پارٹی اور ایک استحکام پاکستان پارٹی کو ملی، اقلیتوں کی ایک متنازع نشست ن لیگ ، ایک پیپلز پارٹی کو ملی۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں 8 متنازع نشستیں جے یو آئی کو ملیں، خیبر پختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو بھی 5، 5 نشستیں ملیں، ایک نشست خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین اور ایک عوامی نیشنل پارٹی کو ملی، خیبر پختونخوا میں 3 اقلیتوں کی متنازع نشستیں بھی دوسری جماعتوں کو دے دی گئیں۔

تاثر تو ایسا دیا گیا جیسے پی ٹی آئی ختم ہو گئی اور جنازہ نکل گیا ، جسٹس جمال مندو خیل

جسٹس حسن اظہر رضوی نے پوچھا کہ ان جماعتوں نے اپنی نشستیں کتنی جیتی ہیں؟ سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو تمام جماعتوں کی نشستوں کی تفصیل بتا دی۔

چیف جسٹس نے جے یو آئی ف کے وکیل کامران مرتضیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا آپ کی جماعت کا پورا نام کیا ہے؟ جس پر کامران مرتضیٰ نے بتایا ہماری جماعت کا نام جمیعت علماء اسلام پاکستان ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا اگر آپ کی جماعت سے ف نکال دیں تو کیا حیثیت ہو گی؟ کامران مرتضیٰ نے کہا پارٹی کا لیڈر نکل جائے تو  پارٹی کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔

ا لیکشن کمیشن کے احکامات میں کوئی منطق نہیں لگتی ، جسٹس منیب اختر

وکیل سنی اتحاد کونسل نے عدالت کو بتایا کہ امیدواروں نےسرٹیفکیٹ لگایا تھا، الیکشن کمیشن نےکہہ دیا کہ آپ آزاد امیدوار ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کیا الیکشن کمیشن کو یہ اختیار ہے کہ کسی کو خود آزاد ڈیکلئیر کر دے؟ جب پارٹی بھی کہہ رہی ہو یہ ہمارا امیدوار ہے، امیدوار بھی پارٹی کو اپنا کہے تو الیکشن کمیشن کا اس کے بعد کیا اختیار ہے؟

ن لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جے یو آئی (ف) کو الاٹ 77 اضافی مخصوص نشستیں خطرے میں

چیف جسٹسیٰ نے پوچھا کہ کیا بینیفشری جماعتوں میں سے کوئی عدالت میں سنی اتحاد کونسل کی حمایت کرتی ہے؟ جس پر مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست کی مخالفت کر دی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے اس کا مطلب ہوا آپ سب اضافی ملی ہوئی نشستیں رکھنا چاہتے ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا انتخابی نشان واپس ہونے سے سیاسی جماعت تمام حقوق سے محروم ہو جاتی ہے؟ ۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کیا انتخابی نشان واپس ہونے کے بعد آرٹیکل 17 کے تحت قائم سیاسی جماعت ختم ہو گئی تھی؟ کیا انتخابی نشان واپس ہونے پر سیاسی جماعت امیدوار کھڑے نہیں کر سکتی؟ تاثر تو ایسا دیا گیا جیسے پی ٹی آئی ختم ہو گئی اور جنازہ نکل گیا۔ کیا یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ پی ٹی آئی بطور جماعت برقرار تھی اور مخصوص نشستوں کی فہرستیں بھی جمع کرائی تھیں؟

مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کی سنی اتحاد کونسل کی درخواست کی مخالفت

فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی نے فہرستیں جمع کرائیں لیکن الیکشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کے مطابق سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں کوئی نشست نہیں جیتی تھی، الیکشن کمیشن کے احکامات میں کوئی منطق نہیں لگتی، الیکشن کمیشن ایک جانب کہتا ہے سنی اتحاد الیکشن نہیں لڑی ساتھ ہی پارلیمانی جماعت بھی مان رہا ہے، اگر پارلیمانی جماعت قرار دینے کے پیچھے پی ٹی آئی کی شمولیت ہے تو وہ پہلے ہو چکی تھی۔

مخصوص نشستیں ، پختونخوا حکومت کا بینچ میں چیف جسٹس کی شمولیت پر اعتراض

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر سنی اتحاد کونسل سے غلطی ہوئی تھی تو الیکشن کمیشن تصحیح کر سکتا تھا، عوام کو کبھی بھی انتخابی عمل سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کیا الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف جا سکتا ہے؟۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر ایسا ہو جائے تو نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں گی سنی اتحاد کو نہیں، عوام نے کسی آزاد کو نہیں بلکہ سیاسی جماعت کے نامزد افراد کو ووٹ دیئے۔

عوام نے کسی آزاد نہیں ، سیاسی جماعت کے نامزد افراد کو ووٹ دیئے ، جسٹس جمال

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آزاد امیدوار پی ٹی آئی میں شامل ہو سکتے تھے، بلے کے نشان والے فیصلے پر عوام کو مس گائیڈ کیا گیا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کل دن ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

 

 


ٹیگز :
متعلقہ خبریں