13 کروڑ عوام کو جوابدہ ہوں، مریم نواز

مریم نواز maryam nawaz

وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ 13 کروڑ عوام کو جوابدہ ہوں، پولیس کرائم کنٹرول کرے،پنجاب میں کسی جگہ پر بھی نو گو ایریا برداشت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ڈکیتی کے واقعات میں کمی خوش آئند ہے، پولیس کے امور میں سیاسی مداخلت ختم کرا دی،وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا جس میں صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم کی سفارش کے باوجود پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر کمی نہ کرنے کا اقدام چیلنج

آئی جی پنجاب نے امن و امان کی مجموعی صورتحال اور پولیس کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی، اس موقع پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ 13 کروڑ عوام کو جوابدہ ہوں، پولیس کرائم کنٹرول کرے، حقائق سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتی، پنجاب میں کسی جگہ پر بھی نو گو ایریا برداشت نہیں، صوبے بھر میں کرائم ریٹ کو ہر صورت نیچے لانا ہوگا، جرائم زیادہ ہو تو عوام حکومت کی ریفارمز اور ڈویلپمنٹ بھول جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس قربانی بھی دے رہی ہے مگر کالی بھیڑیں بھی موجود ہیں، پولیس کے ساتھ ہوں، فورس کے پیچھے کھڑی ہوں، یونیفارم پہن کر اظہار یکجہتی کیا، پولیس کو پورے وسائل مہیا کر رہے ہیں تاکہ کارکردگی میں کمی نہ آئے۔

وزیراعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے پولیس میں کارکردگی کے تجزیے اور جانچ کا نظام لا رہے ہیں، بین الصوبائی سمگلنگ روکنے کیلئے 14 خصوصی چیک پوسٹ بنائی جا رہی ہیں، گاڑیاں، آلات، اسلحہ، ٹریننگ اور پولیس کی ہر ڈیمانڈ پوری کر رہے ہیں۔

سرکاری ادارہ پاک پی ڈبلیو ڈی بند ہونے کا امکان، وزیراعظم نے تجاویز طلب کر لیں

ان کا کہنا تھا کہ چیک پوسٹ پر کھڑے ہر پولیس اہلکار کی حفاظت کو یقینی بنانا ذمہ داری ہے، ڈی جی خان ماڈل پر صوبے بھر میں بجلی چوری کے سدباب کے لئے موثر کارروائی کی جائے، بجلی چوری ختم ہوگی تو لوڈشیڈنگ بھی صفر ہو جائیگی۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ 10 افراد کو ہجوم سے بچانے اور بحفاظت نکالنے پر آئی جی، آر پی اوسرگودھا اور ڈی پی او کو سراہتی ہوں، لاہور میں ڈکیتی کے واقعات میں 50 فیصد سے زائد کمی خوش آئند ہے، تنخواہ لیکر جانے والے مزدوروں کا لٹ جانا افسوسناک ہی نہیں، شرمناک بھی ہے۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر پرویز رشید، چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان، انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر عثمان انور، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سپیشل برانچ، ڈی آئی جی آپریشنز، سی سی پی او اور دیگر حکام نے اجلاس میں شرکت کی، تمام آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔


متعلقہ خبریں