پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ میکرو اکنامک فریم ورک شیئر کر دیا

IMF آئی ایم ایف

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات میں پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ میکرو اکنامک فریم ورک شیئر کر دیا ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات میں بنیادی معاشی اہداف کے تعین سے متعلق اختلافات برقرار ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کا آئندہ سال معاشی شرح نمو کم اور مہنگائی زیادہ رہنے کا تخمینہ تو وزارت خزانہ نے مہنگائی میں کمی کے ساتھ شرح نمو میں اضافے کی پیشگوئی بھی کر دی۔

گندم اسکینڈل ، وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کے 4 افسران معطل کرنیکی منظوری

آئی ایم ایف سے نئے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کیلئے پالیسی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، حکومتی ٹیم نے میکرو اکنامک فریم ورک کی تفصیلات عالمی مالیاتی فنڈ کے مشن کو بتا دیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اگلے مالی سال جی ڈی پی گروتھ 3.5 فیصد تک محدود رہنے کا تخمینہ لگایا تو وزارت خزانہ نے یہ ہدف 3.7 فیصد تجویز کر دیا۔

اسی طرح عالمی مالیاتی ادارے کا خیال ہے کہ مہنگائی 12.7 فیصد رہے گی، جبکہ وزارت خزانہ یہ گراف 11.8 فیصد تک محدود رہنے کے لیے پر امید ہے۔زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 3.5 فیصد، خدمات کا 3.8 اور صنعتی شعبے کا ہدف 4 فیصد مقرر کردیا گیا۔

ریلوے کرایوں میں 54 فیصد تک کمی

ایف بی آر نے ٹیکس ہدف 12 ہزار 400 ارب رکھنے کی تجویز دے دی جو رواں مالی سال کے مقابلے یہ حجم 1300 ارب روپے زیادہ ہے۔عالمی مالیاتی فنڈ نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ 4.6 ارب ڈالر لگایا تو وزارت خزانہ نے یہ ہدف 4.2 ارب ڈالر تجویز کر دیا۔

اگلے مالی سال برآمدات اور ترسیلات زر سے 61 ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ ملنے کا تخمینہ لگایا گیا،درآمدات سے متعلق وزارت خزانہ کا تخمینہ 58 ارب ڈالر جبکہ آئی ایم ایف کا 61 ارب ڈالر ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال مجموعی مالی خسارے کا تخمینہ 9600 ارب روپے، قرضوں پر سود کی مد میں 9700 ارب سے زائد خرچ ہونے جبکہ پنشن بل 801 ارب سے بڑھ کر 960 ارب تک جانے کا امکان ہے۔


متعلقہ خبریں