پاکستان سٹیل کی مسجد میں 37 موذن اور خطیب لاکھوں میں تنخواہ

فائل فوٹو


ابوبکر خان (ہم انوسٹی گیشن ٹیم) معاشی طورپر تباہ حال پاکستان اسٹیل ملز کی مسجد میں ملازمین کو10لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے مسجد میں کام کرنے والے ملازمین کی تفصیلات طلب کی تھی۔ تفصیلات کے مطابق اسٹیل ملز کی مسجد کے 37 ملازمین کو ریگولر ملازمین سے کٹوتی کی مد میں تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں۔

اسٹیل ملز کی مسجد کے 37 ملازمین میں 2 خطیبِ اعلیٰ، 16 خطیب، 17 مؤذن اور دو خادم شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مسجد ملازمین پاکستان اسٹیل ملز کی طرف سے نہیں بلکہ براہ راست مسجد کمیٹی کی نگرانی میں آتے ہیں۔

علاوہ ازیں اس وقت پاکستان اسٹیل میں چھانٹی کا عمل جاری ہے، 5282 ملازمین کی چھانٹی کی جا چکی ہے، جبکہ دیگر ملازمین کی چھانٹی کا کیس لیبر کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

دوسری جانب ان 37 ملازمین کی دوبارہ شمولیت اور تنخواہوں کی ادائیگی کا معاملہ ای سی ایم میں رکھا گیا، ای سی ایم نے تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ کیس کو بورڈ آف ڈاریکٹرز کے آئندہ اجلاس میں غور کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔

ملازمت کو ریگولر کرنے کے لئے امام مساجد و مؤذن نے اپنی ملازمت کو ریگولر کرنے کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔


متعلقہ خبریں