بجلی بلوں کیخلاف احتجاج کے پیچھے کون؟ ہم نیوز نے بڑا سراغ لگا لیا


اسلام آباد(احسن واحد، ہم ڈیجیٹل رپورٹر) پنجاب بھر میں مہنگے بجلی بلوں کیخلاف کس جگہ احتجاج ہوا اور کتنے لوگ نکلے؟ ہم انویسٹی گیشن ٹیم نے کھوج لگا لی،اہم اعداداو شمار حاصل کرلئے۔

اعدادو شمار کے مطابق پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 5700لوگوں نے احتجاج کیا، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 29 اگست کو سب سے زیادہ جگہوں پر احتجاج ضلع ملتان میں ہوا۔

20 مختلف جگہوں پر ہونے والے احتجاج میں تقریباً 2000 لوگوں نے شرکت کی جس زیادہ تر عام لوگ شامل تھے لیکن کال پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی لوکل لیڈر شپ کی تھی۔

ضلع گوجرانوالہ میں 13 مختلف جگہوں پر مہنگے بجلی بلوں کیخلاف احتجاج ہوا جس میں 600لوگ باہر نکلے۔

احتجاج کی کال گوجرانوالہ مین بازار ٹریڈرز یونین کی تھی، لوکل ٹریڈرز یونین کی کال پر ضلع بہاولپور میں 12 مختلف جگہوں پر احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں ایک ہزار پچاس لوگ باہر نکلے۔

ضلع ڈیرہ غازی خان میں 11 مقامات پر احتجاج ہوا جس میں 900 لوگوں نے شرکت کی اور یہ لوکل ٹریڈرز یونین کی احتجاجی کال تھی۔

ٹریڈرز یونین کی کال پر لاہور میں 8 مختلف جگہوں پر احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں 350 لوگوں نے شرکت کی اور یہ عام عوام تھے۔

سرگودھا میں 8 مقامات پر احتجاج ہوا جس میں 550 لوگوں نے شرکت کی،جماعت اسلامی کی لوکل لیڈر شپ نے ٹریڈرز کیساتھ مل کر احتجاج کیا۔

فیصل آباد میں 5 مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں 300 لوگ شریک ہوئےلوگ لوکل ٹریڈرز یونین کی کال پر باہر نکلے۔

ساہیوال میں 2 جگہوں پر احتجاج ہوا جس میں 200 آدمی شریک ہوئے یہ احتجاجی کال پاکستان کسان اتحاد کی جانب سے دی گئی۔

سر کاری اداروں نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پنجاب بھر میں ہونے والے مظاہرے پر امن تھے ، سڑکیں اور مارکیٹیں کھلی رہیں،توڑ پھوڑ کی کسی جگہ کوئی اطلا ع نہیں ملی، احتجاج کے دوران کہیں بجلی بل بھی جلائے گئے۔


متعلقہ خبریں