عوام پر مزید ٹیکس لگانے پر صدر اور وفاقی حکومت میں ٹھن گئی


عوام پر ٹیکس لگانے پر صدر عارف علوی اور وفاقی حکومت آمنے سامنے آ گئے ہیں۔

صدرِ مملکت کی منی بجٹ کے حوالے سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات ہوئی، جہاں عارف علوی نے مِنی بجٹ لانے کیلئے آرڈیننس جاری کرنے سے انکارکر دیا۔

صدر مملکت نے وفاقی حکومت کو قومی اسمبلی جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس لگانے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا زیادہ مناسب ہو گا۔

جس کے بعد اب حکومت نے پارلیمنٹ سے مِنی بجٹ منظور کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس آج ہوں گے۔ واضح رہے وفاقی کابینہ نے منی بجٹ آرڈیننس کے ذریعے نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ ٹیکس بلز 2023 کی منظوری دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ کا منی بجٹ آرڈیننس کے ذریعے نہ لانے کا فیصلہ

اس ضمن میں ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی کابینہ نے موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر لگژری آئٹمز پر ٹیکس لگانے کی منظوری دے دی جب کہ کفایت شعاری کے اقدامات پر بریفنگ لینے کے بعد اس کی بھی منظوری بھی لی گئی ہے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف کے مطالبے پرپیٹرول گیس، اور بجلی کے بعد گاڑیاں، موبائل، فریج، ٹی وی، سگریٹ بھی مزید مہنگے ہوں گے، میک اپ، امپورٹڈ جوتوں، کھانے کی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گا۔

فضائی ٹکٹ، مشروبات بھی مہنگے ہوں گے، نان فائلر اور بینک ٹرانزیکشن پر بھی ٹیکس لگے گا، مِنی بجٹ آج آئے گا، عوام پر ایک سو ستر ارب روپے کے نئے ٹیکس لگیں گے جبکہ جی ایس ٹی میں بھی اضافے کا امکان ہے جس کے لیے وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔

 


متعلقہ خبریں