پاکستان میں ایئر انڈکس کم ہونے پر سائرن بجانے کی سفارش

دُھند کا راج، آلودہ ترین شہروں میں پشاور کا پہلا، اسلام آباد کا چھٹا نمبر

لاہور: اسموگ سے نمٹنے اور تدارک کے لیے بنائے گئے اسموگ کمیشن نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ شہر میں ہوا کا معیار(ایئر کوالٹی) کم ہونے پر سائرن بجانے کا حکم جاری کیا جائے۔

ڈاکٹر پرویز حسن کی سربراہی میں بنائے گئے اسموگ کمیشن نے 36 صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے جس میں سفارش کی گئی ہے کہ ائیر انڈکس 300 ہونے یا تین سو سے بڑھنے پر شہر میں ایمرجنسی سائرن بجانے کا حکم دیا جائے۔

اسموگ کمیشن کی رپورٹ میں آلودگی کا باعث بننے والے صنعتی یونٹس کے خلاف کاروائی کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسموگ سے بچنے کے لیے اینٹوں کے بھٹوں اور آلودگی کا باعث بننے والے صنعتی  یونٹس کے خلاف کاروائی کی جائے۔

اسموگ کے تدارک کے لیے کمیشن نے اپنے رپورٹ میں تجاویز دی ہیں کہ نئے درخت لگائے جائیں اور پرانے درختوں کی حفاظت کی جائے۔ محکمہ ماحولیات شہریوں میں ماسک تقسیم کرے  اور اسموگ سے نمٹنے کے لیے آگاہی  فراہم کرے، نئے صنعتی یونٹس شہروں سے باہر آبادی سے ہٹ کر  لگائے جائیں اور قریبی ہمسائے اور خطے کے ممالک سے اسموگ سے بچاؤ کے معاہدے کیے جائیں۔

اسموگ کمیشن رپورٹ کے مطابق ائیر کوالٹی انڈیکس کو روزانہ کی بنیاد پر جاری کیا جائے، ماحولیاتی مانیٹرنگ یونٹس کو فعال بنایا جائے، محکمہ صحت، محکمہ ماحولیات، محکمہ جنگلات اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان روابط کو فعال بنایا جائے۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس منظور ملک پر مشتمل تین رکنی فل بینچ نے جمعرات کے روز مقدمہ کی سماعت کی۔


متعلقہ خبریں