اسلام آباد سمیت ملک بھر میں طوفانی بارشیں


اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں وقفے وقفے سے جاری طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی۔

اسلام آباد میں آج دوسرے روز بھی موسلا دھار بارش ہوئی جس کے باعث اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہو گیا اور ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

اسلام آباد کے شاپنگ مال کے قریب جناح ایونیو پانی میں ڈوب گئی جبکہ سی ڈی اے ون ونڈو ڈائریکٹوریٹ کی عمارت کی چھت ٹپک پڑی اور نئی عمارت کی چھت برساتی نالے کا منظر پیش کرنے لگی۔ سی ڈی اے آفس آنے والے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اسلام آباد، راولپنڈی میں شدید بارش کے پیشِ نظر ایمرجنسی ریسکیو ٹیموں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ بارش کے باعث اسلام آباد میں گرمی اور حبس کا زور بھی ٹوٹ گیا۔

ماہر میٹرولوجسٹ محمد حنیف نے مون سون بارشوں سے متعلق کہا کہ ہر سیزن کے دوران کوئی بھی غیر معمولی تبدیلی ممکن ہے اور مون سون کا سیزن 90 کا دن ہوتا ہے جس کے باعث سیلاب آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نارمل 40 سے 45 گرم دن ہوتے ہیں لیکن رواں سال 90 میں سے 65 گرم دن دیکھے گئے۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دن گرم ترین ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مون سون بارشوں میں اب تک 77 اموات ہو چکی ہیں، وفاقی وزیر ماحولیات

دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے مون سون کے موجودہ اسپیل میں توسیع کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ مون سون بارشوں میں محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

مون سون ہواؤں کا سلسلہ 24 سے 48 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے اور مون سون کے اسپیل میں ہفتے کے آخر تک شدت آسکتی ہے۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں 7 جولائی کو موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

بلوچستان میں بارشوں نے تباہی مچا دی ہے اور 2 دن میں بارشوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 18 ہو گئی جبکہ کوئٹہ میں مزید 2 افراد کی اموات کے بعد صرف کوئٹہ میں تعداد 9 ہو گئی۔

بلوچستان کے ضلع کیچ میں 3 بچے سیلابی ریلے میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے جبکہ قلعہ سیف اللہ میں لاپتہ 4 بچوں کی لاشیں نکال لی گئیں اور قلعہ سیف اللہ میں لاپتہ 14 خواتین اور ایک بچے کی تلاش جاری ہے۔


متعلقہ خبریں