چلچلاتی دھوپ سے بے حال شہریوں کے مسیحا

چلچلاتی دھوپ سے بے حال شہریوں کے مسیحا | urduhumnews.wpengine.com

رمضان المبارک کے دوران پڑنے والی سخت گرمی، چلچلاتی دھوپ اور شدید حبس کے عالم میں جب عوام بدترین ٹریفک جام کا نشانہ بن رہے ہوتے ہیں، پیدل چلنے والے سائے کی تلاش میں ہوتے ہیں اور تندور کی طرح دہکتی گاڑیوں میں پھنسے لوگ پل بھر کی سانس کو بھی ترس رہے ہوتے ہیں تو ایسے میں سب کی ’مسیحائی‘ ٹریفک پولیس اہلکار کررہے ہوتے ہیں۔

پاکستان میں ٹریفک پولیس کی بنیادی ذمہ داریوں میں سڑک پر ٹریفک کی نگرانی کرنا اور اس کو رواں رکھنا ہے۔ روڈ پر ٹریفک لائنز کا رخ موڑنا، ٹریفک نشانات کو استعمال کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ کی سمت متعین کرنا اور پیدل چلنے والوں کو سہولت فراہم کرنا بھی ٹریفک پولیس کی ذمہ داری میں شامل ہے۔

شہریوں کے ڈرائیونگ لائسنس، روٹ پرمٹ، سیٹ بیلٹ، ہیلمٹ چیک کرنا اور غیر قانونی پارکنگ وغیرہ کو  روکنا بھی ٹریفک پولیس ہی کا کام ہے۔ پولیس اہلکار حادثات وجرائم کی صورت میں مدد کرتے اور وی آئی پی موومنٹ کے دوران روڈ پرٹوکول بھی فراہم کرتے ہیں۔

کراچی میں درجہ حرارت 45 ڈگری کو چھو رہا ہو، سوا نیزے پہ سورج ہو اور گاڑیوں کا بے پناہ رش تو ایسے میں گرمی کی حدت کئی گنا بڑھ جائے گی۔ ایسے عالم میں جب سب جائے پناہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں تو پوری تندہی اور جانفشانی سے ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک پولیس اہلکار حفیظ اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہوتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ گرمی ہو، سردی ہو اور یا پھر لوچل رہی ہو ہمیں تو اپنے فرائض سرانجام دینے ہیں۔

اندرون لاہورکی تمام سڑکوں  پر ٹریفک جام معمول کی بات ہے۔ شہر میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی بڑھتی تعداد نے ٹریفک کی روانی کو ازحد متاثر کیا ہے۔ افسوس کہ پوش علاقوں میں سگنل فری سڑکوں جیسے منصوبے ضرور بنادیے ہیں لیکن عوام کی غالب اکثریت کو نظرانداز کردیا ہے۔ عوام کی یہ غالب اکثریت ان علاقوں میں رہائش پذیر ہے جہاں متوسط اور غریب طبقہ رہتا ہے۔

ان علاقوں میں تجاوزات ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے کا سب سے بڑا سبب ہوتا ہے۔ ٹریفک پولیس اہلکار کس طرح تجاوزات کی موجودگی میں مسافروں کو ان کی منزل مقصود تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔

چیف ٹریفک انسپکٹر (سی ٹی او) لاہور رائے اعجاز احمد کہتے ہیں کہ مشکل حالات میں بھی ٹریفک پولیس اپنے فرائض انجام دیتی ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ بھی ٹریفک قوانین پرعمل درآمد یقینی بنائیں۔

رائے اعجاز احمد نے ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے تمام بڑے سگنلز پر ٹریفک وارڈنز کام کر رہے ہیں۔ غلط پارکنگ کے خاتمے کے لیے لفٹرز بھی اپنے کام میں مصروف ہیں۔ تاہم تریفک کے مسائل حل کرنے کے لیے شہریوں کو ہمارا ساتھ دینا ہوگا۔

یہاں اس سے انکار ممکن نہیں ہے کہ جس طرح ہر شعبہ ہائے زندگی میں کالی بھیڑیں موجود ہیں بالکل اسی طرح ٹریفک پولیس بھی ان سے مبرا نہیں ہے لیکن پھر بھی ایسے فرض شناس اور ذمہ دار افسروں واہلکاروں کی بھی کمی نہیں ہے جو تمام تر نامساعد حالات میں بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔ بحیثیت شہری اگر ہم ان کی خدمات کا اعتراف ہی کرلیں تو یقیناً اس سے ان کے کام میں بہتری آئے گی۔


معاونت
متعلقہ خبریں