اسلام آباد: سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے قومی اسمبلی اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔
ہم نیوز کے مطابق بدھ کے روز قومی اسمبلی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ بجٹ میں بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا، میرا دل کرتا ہے بجٹ کارروائی روک دوں، میں آج قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو رہا ہوں ۔
موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ظفراللہ جمالی نے کہا کہ اداروں کو برا بھلا کہا جا رہا ہے، اسمبلی میں جھوٹ بولا گیا۔ قومی اسمبلی اجلاس کی صدارت کرنے والے ایاز صادق کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جناب اسپیکر آپ نے کسی کو سزا نہیں دی، جرآت ہے تو آئین توڑنے والوں کو پھانسی لگاؤ۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ نیب چیئرمین کو وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نے تعینات کیا, اگر حکومت چیئرمین نیب کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تو وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر استعفی دیں۔
بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے وزیرخزانہ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ظفراللہ جمالی نے کہا کہ بجٹ پیش کرنے والا میرے دوست کا داماد ہے۔ نواز شریف کراچی جائیں تو ان کا کھانا وزیرخزانہ کے گھر سے آتا ہے۔

