خیبرپختونخوا : نواز شریف کڈنی اسپتال سوات کا نام تبدیل کرنے کی منظوری


خیبرپختونخوا کابینہ نے نواز شریف کڈنی اسپتال سوات کا نام تبدیل کرنے کی منظوری دے دی۔

ترجمان خیبرپختونخوا حکومت کامران بنگش کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق کسی زندہ فرد کے نام سے سرکاری ادارے کو منسلک نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے رولز آف بزنس 1985 میں ترمیم اور ڈرافٹ نوٹیفکیشن کی منظوری دی ہے۔

سوات کا کڈنی اسپتال سرکاری نہیں جس کا نام تبدیل کر دیا گیا، مریم اورنگزیب

کابینہ نے چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت سزائیں اور جرمانے بڑھانے کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

کامران بنگش نے کہا کہ کمیٹی سزائیں اورجرمانےبڑھانےکےحوالےسے رپورٹ پیش کرے گی۔

کابینہ نے خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کی سالانہ رپورٹ کی منظوری دے دی۔

دوسری جانب ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ  سوات کا کڈنی اسپتال سرکاری نہیں جس کا عمران خان نے نام تبدیل کرا دیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی کارکردگی جھوٹ، بدزبانی، بدکلامی اور بد اخلاقی ہے۔ عمران خان کی کارکردگی نواز شریف کے منصوبے پر نئی تختیاں لگانا اور پرانی اکھاڑنا ہے۔

انہوں ںے کہا کہ عمران خان کی کارکردگی نوازشریف کڈنی اسپتال کا نام بدلنا ہے جبکہ سوات میں گردوں کےعلاج کا اسپتال سرکاری وسائل سے تعمیر نہیں ہوا تھا بلکہ سوات میں نواز شریف کڈنی اسپتال کی تعمیر نجی عطیات کے ذریعے ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: مریم اور بلاول بے ہودہ زبان استعمال کر رہے ہیں،شیخ رشید

مریم اورنگزیب نے کہا کہ مخیر افراد نے سوات میں نواز شریف کڈنی اسپتال کی تعمیر کے لیے انفرادی حیثیت میں فنڈز دیے تھے اور بدترین سیلاب کے بعد 2010 میں نواز شریف اسپتال تعمیر کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کڈنی اسپتال ایک ٹرسٹ اسپتال ہے اور اسپتال کی تعمیر میں کوششوں پر نواز شریف کے نام پر اس اسپتال کا نام رکھا گیا۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp