جنوبی افریقہ کی ایک عدالت نے مہاتما گاندھی کی پڑپوتی کو دھوکہ دہی اور چھ کروڑ رینڈ (جنوبی افریقہ کی کرنسی) کی جعلسازی کے الزام میں سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق رینڈ جنوبی افریقہ کی کرنسی ہے اور بھارتی روپے میں اس مبینہ دھوکہ دہی کی کل رقم تقریباً 32 لاکھ 50 ہزار روپے تک ہے۔
پیر کے روز ڈربن کی ایک عدالت نے 56 سالہ آشیش لتا رامگووبن کو سزا سنائی۔ آشیش لتا پر صنعتکار ایس آر مہاراج کو دھوکہ دینے کا الزام ہے۔
ایس آر مہاراج نے مبینہ طور پر انھیں بھارت سے ایک کھیپ درآمد کرنے اور کسٹم ڈیوٹی کو کلیئر کرنے کے لیے 62 لاکھ رینڈ دیے۔ تاہم اصل میں اتنی کسٹم ڈیوٹی تھی ہی نہیں۔ لتا سے یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ ان کو منافعے کا حصہ دیا جائے گے۔
مزید پڑھیں: امریکہ: مہاتما گاندھی کے مجسمے کو نامعلوم افراد نے توڑ ڈالا
آشیش لتا انسانی حقوق کے معروف کارکن الہ گاندھی اور مرحوم میوا رامگووند کی بیٹی ہیں۔ الہ گاندھی منی لال گاندھی کی بیٹی ہیں جو مہاتما گاندھی کے چار بیٹوں میں سے دوسرے نمبر پر تھے۔
آشیش لتا رامگووبن پر کیا الزامات تھے؟
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق یہ کیس 2015 کا ہے۔ جب آشیش لتا کے خلاف مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا تو جنوبی افریقہ کی قومی پراسیکیوشن اتھارٹی (این پی اے) کے بریگیڈیئر ہنگوانی مولود جی نے کہا تھا کہ لتا نے مبینہ طور پر ممکنہ سرمایہ کاروں کو جعلی رسیدیں اور دستاویزات دکھا کر راضی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ بتایا کہ لیلن کے تین کنٹینر انڈیا سے آ رہے ہیں۔
اس وقت آشیش لتا کو 50 ہزار رینڈ کی ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔
پیر کو سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ آشیش لتا نے اگست 2015 میں ‘نیو افریقہ الائنس فٹ ویئر ڈسٹری بیوٹرز’ کے ڈائریکٹر ایس آر مہاراج سے ملاقات کی تھی۔
مہاراج کی کمپنی کپڑے، لیلن اور جوتے درآمد، تیار اور فروخت کرتی ہے۔ مہاراج کی کمپنی دوسری کمپنیوں کو بھی منافع کی بنیاد پر مالی مدد فراہم کرتی ہے۔
آشیش لتا نے مہاراج کو بتایا تھا کہ انھوں نے ‘جنوبی افریقی ہسپتال گروپ نیٹ کیئر’ کے لیے کپڑے کے تین کنٹینر منگوائے ہیں۔
مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق آشیش لتا کے خاندانی پس منظر اور نیٹ کیئر دستاویزات دیکھ کر مہاراج نے اس قرض کے لیے ان سے تحریری معاہدہ کیا تھا۔
تاہم بعد میں جب انھیں دھوکہ دہی کے بارے میں پتا چلا تو انھوں نے آشیش لتا کے خلاف فوجداری کا مقدمہ درج کرایا۔
خاندانی پس منظر
آشیش لتا ایک غیر سرکاری تنظیم ‘بین الاقوامی مرکز برائے عدم تشدد’ کے نام سے ایک پروگرام کی بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر تھیں۔ وہ خود کو ماحولیات، سماجیات اور سیاسی معاملات کی کارکن قرار دیتی تھیں۔
مہاتما گاندھی کے خاندان کے کئی افراد انسانی حقوق کے لیے کام کرتے ہیں جن میں آشیش لتا کی کزن کیرتی مینن، مرحوم ستیش دھوپیلیا اور اما دھوپیلیا شامل ہیں۔
آشیش لتا کی والدہ الہ گاندھی کو ان کی کوششوں کے لیے خاص طور پر بین الاقوامی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔ انڈیا کے ساتھ ساتھ انھیں جنوبی افریقہ میں بھی قومی اعزاز سے نوازا گیا ہے۔
