قانون نافذ کرنے والے ادارو ں میں متعدد نسلوں کے طاقتور کتوں کو تفتیشی عمل اور جرائم سے لڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن حال ہی میں جرائم کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے روبوٹک کتے متعارف کرایے گئے ہیں۔ یہ روبوٹک کتے موبائل ریموٹ آبزرویشن ڈیوائس کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔
نیویارک پولیس نے مین ہیٹن شہر کے ایک فلیٹ پر روبوٹ کتے کی مدد سے چھاپہ مار کر ایک مطلوب شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔
برطانوی آن لائن اخبار دی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق پیر کے روز نیو یارک کے نئے ڈیجی ڈاگ نامی روبوٹ پولیس کتے کی مدد سے مطلوب شخص کو گرفتار کیا۔
عمارت میں پولیس افسران کے روبوٹ کتے کی مدد سے داخلے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شہریوں کی جانب سے پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے عمارت میں داخلے سے قبل روبوٹ کتے کو بھیجا تھا۔ روبوٹ کتا ایپارٹمنٹ میں داخل ہونے کے چند لمحے بعد باہر آیا جس کے بعد پولیس افسران روبوٹ کے ساتھ دوبارہ فلیٹ میں داخل ہوگئے۔
تھوڑے ہی لمحے بعد پولیس افسران ایک نوجوان کو ہتھکری پہنا باہر لائے اور گاڑی میں ڈال کر روانہ ہوا۔ نیویارک پولیس نے کسی بھی ایسے چھاپے کے لیے پہلی مرتبہ روبوٹ کتے کا استعمال کیا ہے۔
مزید پڑھیں: روبوٹ کی پینٹنگ کی قیمت 10 کروڑ روپے
سوشل میں پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک پولیس افسر روبوٹ کتے کے ساتھ عمارت میں داخل ہوتے دکھائی دیتا ہے اور پس منظر میں کوئی ایک شخص کہتا ہے ‘اوہ، یہ کتے سے بہتر حرکت کرتا ہے۔ میں نے زندگی میں ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا’
یہ ویڈیوز پیر کو ٹویٹر پر شیئر کی گئی تھی اور اب تک 8 ملین سے زائد لوگ اس کو دیکھ چکے ہیں۔
روبوٹ کتے کے ساتھ پولیس چھاپے پر متعدد افراد نے تنقید کرتے ہوئے کہا شہر بے گھر اور محتاج لوگوں کی بہتات ہے اور حکومت تعلیم کے لیے درکار فنڈز فراہم کرنے کے بجائے اس قسم کی ٹیکنالوجی پر رقم خرچ کررہی ہے۔ یہ ٹیکس دہندہ گان کے پیسوں کا ضیاع ہے۔
ایک شخص نے ٹویٹ کیا کہ ٹیکس دہندہ گان کے ڈالر اس طرح کی چیزوں پر خرچ ہونے لگے، جس پر افسوس ہے۔
ایک اور شخص نے لکھا کہ بے گھر افراد کے بحران کے خاتمے کے لیے ہمارے پاس کافی تعداد میں خالی مکانات اور رقم موجود ہے جبکہ پولیس اسے بیکار کالے آئینے پر اس طرح پیسے خرچ خرچ کر رہی ہے۔

