میانمار میں فوجی بغاوت: پولیس افسران بھارت کیوں فرار ہوئے؟

میانمار کے پولیس افسران بھارت کیوں فرار ہوئے؟

فوج کی جانب سے میانمار میں آن سان سوچی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد عوامی مظاہروں اور سول نافرمانی کی تحریک میں شامل پولیس افسران سمیت متعدد افراد ہمسایہ ملک بھارت فرار ہوگئے ہیں۔

بھارت فرار ہونے والے میانمار پولیس کے افسران نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فوجی حکمرانوں کے احکامات ماننے سے اس لیے انکار کیا کیونکہ وہ (فوجی حکمران) انہیں شہریوں پر گولیاں چلانے کے احکامات دے رہے تھے۔

بھارت کی ریاست میزورام میں پناہ گزین میانمار کے ایک پولیس افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ “مجھے مظاہرین پر گولیاں چلانے کا حکم دیا گیا تھا لیکن میں نے انکار کردیا، میں ایسا نہیں کرسکتا تھا۔ میں ڈیوٹی چھوڑ کر سیدھے گھر چلا گیا اور خاندان کے افراد سمیت بھارت نکل پڑا”.

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا خیال تھا کہ فوج کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنا غلط اور غیر قانونی تھا۔

اس سال یکم فروری کو فوجی بغاوت کے بعد مختلف شہروں میں ہزاروں افراد روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کر رہے ہیں۔ میانمار میں 100 سے زائد پولیس افسران فوجی حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک میں شامل ہو گئے ہیں۔
ایک اور پولیس افسر کا کہنا تھا کہ وہ پرامن شہریوں پر تشدد سے اپنا دامن پاک رکھنا چاہتا تھا۔ جبکہ اسکے ایک ساتھی نے کہا کہ فوجی اہلکار، پولیس افسران کی وردی پہن کر ظالمانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ میانمار سے ملنے والی سرحد سے کم سے کم پندرہ پولیس افسران بمعہ اہل خانہ بھارت میں داخل ہو چکے ہیں۔

بھارتی حکام کے مطابق میانمار سے پولیس افسارن فوجی احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر جوابی کارروائی کے خوف سے فرار ہوئے ہیں، جبکہ میانمار کی فوج، سول نافرمانی تحریک کے قائدین اور باغی پولیس افسران کا پتا لگانے اور انہیں پکڑنے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

ایک اور پولیس افسر نے کہا کہ وہ بھارت اس لیے فرار ہوئے کیونکہ ان کی تعیناتی کی جگہ بڑی تعداد میں لوگ مظاہروں میں شریک ہورہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں مظاہرین پر فائر کھولنے کے احکامات دیے گئے تھے، لیکن “میں نے اپنے باس سے کہا میں ایسا نہیں کرسکتا اور میں مظاہرین میں شامل ہوگیا۔ حالات خراب پر میں بمعہ اہلخانہ بھارت فرار ہوگیا۔ میانمار میں فوج بہت زیادتی ظالم بنتی جارہی ہے”

پولیس افسران کا کہنا ہے کہ بھارت فرار ہونے سے قبل انہوں نے عوامی مظاہروں اور سول نافرمانی میں بھر پور شرکت کی۔

میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد 100 سے زائد افراد بشمول پولیس افسران بھارت فرار ہوگئے ہیں۔ میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف جاری احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اب تک 50 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔


متعلقہ خبریں