ایم کیو ایم پاکستان نے اپنا لوکل گورنمنٹ ایکٹ پیش کر دیا

ایم کیو ایم پاکستان نے اپنا لوکل گورنمنٹ ایکٹ پیش کر دیا

کراچی: متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے صوبہ سندھ کے لیے اپنا لوکل گورنمنٹ ایکٹ پیش کر دیا۔

کراچی میں پارٹی کے دیگر رہنماوں کے ہمراہ  پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنما ایم کیو ایم کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ مجوزہ ایکٹ میں مقامی لوگوں کے مسائل حل کرنے کا مؤثر طریقہ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ ایکٹ میں تمام اتھارٹیز کو جمع کرنے کیلئےایک مشاورتی انجمن بنائی ہے۔ قانون میں بلدیاتی اداروں کو انتظامی اور مالی طور پر مستحکم کیا گیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم رکن سندھ اسمبلی محمد حسین نے کہا کہ مجوزہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں یونین کونسلز کو بھی ٹیکس جمع کرنے کے اختیار دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: سندھ حکومت کا لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ

خیال رہے کہ  31 اگست کو سندھ میں بلدیاتی اداروں کے نمائندوں کی مدت ختم ہو گئی تھی جس کے بعد یکم نومبر کو ایڈمنسٹریٹرز تعینات کردیے گئے تھے۔

سندھ حکومت نے بلدیاتی حکومتوں کو تحلیل کرنے اور ایڈمنسٹریٹرز تعینات کرنے کے نوٹیفکیشنز جاری کر دیے تھے۔ نوٹیفکیشنز بلدیاتی حکومتوں کی 4 سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد جاری کیے گئے تھے۔

ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نےکہا تھا کہ سندھ میں ایڈمنسٹریٹر کا تعین لسانی تعیناتی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور سکھر کا ایڈمنسٹریٹر مقامی ہونا چاہیے تھے لیکن ثابت کردیا گیا کہ سندھ میں نہ کسی کو نوکری اور نہ پوسٹنگ ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خوشحالی براہ راست کراچی کی خوشحالی سے وابستہ ہے لیکن پورے سندھ میں اردو پنجابی و دیگر زبان بولنے والوں کو قابل نہیں سمجھا جاتا ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس کیا وجوہات ہیں جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت بلدیاتی حکومت کی بجائے بیوروکریٹ کے ذریعے ترقیاتی کام کرائے۔


متعلقہ خبریں