شراب لائسنس کیس: اشرف گوندل 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے


لاہور: احتساب عدالت نے غیر قانونی شراب لائسنس اجراء کیس میں گرفتار سابق ڈائریکٹر جنرل ایکسائز پنجاب اکرم اشرف گوندل کو دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔

عدالت نے نیب کو آئندہ سماعت پر مکمل تفتیشی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چوہدری نے شراب لائسنس اجرا کیس کی سماعت کی۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے لائسنس جاری کیا۔، ملزم سے مختلف دیگر ملزمان کا سامنا کروانا ہے، پندرہ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

مزید پڑھیں: شراب لائسنس کیس: سابق ڈی جی ایکسائز اکرم گوندل گرفتار

سابق ڈی جی ایکسائز نے اپنے بیان میں کہا کہ اس سے پہلے بھی نو لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔ اجراء سے قبل مختلف محکموں سے این او سی لیے جاتے ہیں۔ ہر بار سمری وزیراعلی کو بھجوا دی جاتی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ جو سمری وزیراعلیٰ کو بھجوائی تھی اس کا کیا بنا؟ ملزم نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری نے سمری واپس بھجوا دی تھی جس کے بعد قانون کے مطابق لائسنس جاری کیا۔

عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ملزم کا دس روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا اور 28 ستمبر کو ملزم کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز قومی احتساب بیورو  لاہور نے شراب لائسنس کیس میں سابق ڈائریکٹر جنرل ایکسائز پنجاب اکرم اشرف گوندل کو گرفتار کرلی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے قومی نیب میں 4 صفحات پر مشتمل جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ 2000اور2001میں گورنر نے لائسنس جاری کیے تھے۔ ڈی جی ایکسائز اکرم اشرف گوندل کی لائسنس اجرا کی پہلی سمری اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر واپس بھجوائی گئی۔

انہوں نے جواب میں کہا تھا کہ اکرم اشرف گوندل نے لائسنس جاری کر کے دوبارہ سمری وزیر اعلیٰ پنجاب سیکریٹریٹ بھجوائی۔ پرنسپل سیکریٹری نے سمری متعلقہ فورم نہ ہونے کی بنیاد پر دوبارہ واپس بھجوا دی۔

جواب میں کہا گیا تھا کہ ایکسائز کے وزیر نے متعلقہ ہوٹل کو دیا گیا شراب کا لائسنس معطل کر دیا تھا اور لاہور ہائیکورٹ نے 2019 میں متعلقہ ہوٹل کا لائسنس بحال کرنے کا حکم دیا۔


متعلقہ خبریں