حکومت نے زلزلہ متاثرین کو ملنے والی امداد کا حساب دینا ہے، سپریم کورٹ


اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریمارکس دیے ہیں کہ چھ سو ارب سے چھ سو نئے شہر آباد ہو سکتے تھے۔

یہ ریمارکس سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے 2005 کے زلزلہ ترقیاتی فنڈز کیس کی سماعت کے دوران دیے۔

سپریم کورٹ میں مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے سماجی رہنما شیراز محمود قریشی نے درخواست دائر کی تھی جسے عدالت عظمیٰ نے ازخود نوٹس کیس میں تبدیل کردیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ بالاکوٹ میں کچھ نہیں ہوا۔

انہوں نے استفسار کیا کہ 13 سال میں ارتھ کوئیک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن اتھارٹی (ایرا )بالاکوٹ کو آباد نہیں کرسکی،اگر یہ کارکردگی ہے تو ادارے کی ضرورت کیا ہے؟

بنچ کے رکن جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ حکومت پاکستان بتائے کہ کتنی رقم باہر سے آئی؟کتنی ملک میں جمع ہوئی؟ اور یہ ساری رقم کہاں گئی؟

جسٹس اعجازالاحسن نے واضح کیا کہ حکومت نے 2005 کے زلزلہ متاثرین کو ملنے والی امداد کا حساب دینا ہے۔

عدالت عظمیٰ کو نمائندہ ایرا نے بتایا کہ ترقیاتی فنڈز براہ راست ادارے کے پاس نہیں آئے بلکہ ڈونرز نے حکومت کو دیے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایرا نے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لئے اب تک کیا کیا؟

نمائندہ ایرا نے بتایا کہ وزیراعظم نے 14 ہزار اسکیموں کی منطوری دی جن میں سے دس ہزار اسکیموں پر کام مکمل ہوچکا ہے باقی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

بنچ کے سربراہ نے پوچھا کہ ایرا کے انتظامی اخرجات کتنے ہیں؟

نمائندہ ایرا کا کہنا تھا کہ انتظامی اخراجات ایک ارب سے زائد ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا زلزلہ متاثرہ علاقے میں اسپتال بنایا گیا؟

عدالت عظمیٰ کو درخواست گزار شیراز محمود قریشی نے بتایا کہ عدالتی نوٹس کے بعد ایرا حرکت میں آئی ہے اورکل کنگ عبداللہ اسپتال کا افتتاح کرنے جارہی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ چارلاکھ بچے ابھی بھی کھلے اسمان تلے اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کو شیراز محمود قریشی نے بتایا کہ 2007 میں 12 ہزار کنال رقبہ ایرا کے سپرد کیا گیا لیکن گیارہ سال میں ایک بھی پلاٹ تیار نہیں ہوا۔

عدالت عظمیٰ نے زلزلہ ترقیاتی فنڈز کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اورجسٹس عمرعطابندیال پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔


متعلقہ خبریں