اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سیکیورٹی صورتحال پر اہم اجلاس ہوا، جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔
جاری اعلامیہ کے مطابق کے اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ندیم رضا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی، ائیر چیف مجاہد انور خان، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ملک کی اندرونی اور بیرونی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے کہا کہ پاکستان ہمسائیوں کے ساتھ پرامن طریقے سے رہنا چاہتا ہے۔ اپنے ملک کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلا س میں بین الاقوامی برادری سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے میں شہید ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے بے گناہ شہری کو 3 سالہ نواسے کے سامنے شہید کر دیا تھا۔
کشمیر میڈیا سروس (کے ایم سی) کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نےبارہ مولا میں بھارتی فورسز نے بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم سن نواسے کے سامنے بے گناہ شہری پر فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں کشمیرکےآبادیاتی ڈھانچےکوتبدیل کرنے کی بھارتی کوشش کیخلاف وزیراعظم متحرک
گزشتہ روز مقبوضہ وادی میں قابض بھارتی فورسز نے مزید دو کشمیری نوجوانوں کو بھی شہید کر دیا تھا۔
دوسری جانب پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے 25 ہزار ڈومیسائل بھارتی شہریوں کو دینے کے اقدام کو بھی مسترد کر دیا تھا۔
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا تین روز قبل اپنی بریفنگ میں کہنا تھا کہ بھارت اپنے شہریوں کو بوگس ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دے رہا ہے، اس کا یہ اقدام غیر قانونی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں، ڈومیسائل حاصل کرنے والوں کو یہ پتہ ہونا چاہئے کہ بھارت اس اقدام کا اہل نہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ عالمی قوانین کے تحت بھارت ایسا اقدام نہیں کر سکتا، بھارت کے اس اقدام سے پاکستان کا بیانیہ درست ثابت ہوا، بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنا چاہتا تھا
