اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے شوگرکمیشن کی سفارشات پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ سفارشات کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی منظوری دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف فوجداری قانون کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔ 5 سال میں29 ارب کی سبسڈی کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اگرصحیح طریقے سے سبسڈی دی جائے تو یہ کوئی جرم نہیں ہے۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ پچھلے 5 سالوں میں قواعدوضوابط سے ہٹ کرسبسڈی دی گئی۔ فرانزک میں ثابت ہوگیا کہ گنے کے کاشتکار کو کم قیمت دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ معاملات ایس ای سی پی اور ایف بی آرکو بھیجے گئے ہیں۔ کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں اب ریکوری کا کام ہوگا۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ حکومت نے انکوائری کمیشن کی رپورٹ پبلک کر دی تھی جس میں چینی بحران کا ذمہ دار ریگولیٹرز کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 5 سال میں 88 شوگر ملزکو 29 ارب کی سبسڈی دی گئی۔ 5سال میں ان شوگر ملز نے 22 ارب روپے کا انکم ٹیکس دیا۔ ان شوگر ملز نے 12 ارب کے انکم ٹیکس ریفنڈز لیے یوں کل 10 ارب روپے انکم ٹیکس دیا گیا۔
مزید پڑھیں: شوگر انکوائری رپورٹ شاہد خاقان عباسی کے خلاف چارج شیٹ ہے، شہزاد اکبر
معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بتایا تھا کہ وزیراعظم کا فیصلہ ہے کہ کمیشن کی رپورٹ من وعن عوام کےسامنے رکھی جائے۔
شہزاداکبر نے بتایا تھا کہ ریگولیٹرزکی غفلت کے باعث چینی بحران پیدا ہوا اورقیمت بڑھی۔ 5 سال میں 29ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ رپورٹ میں صاف نظر آ رہا ہے کہ ایک کاروباری طبقے نے نظام کومفلوج کرکے بوجھ عوام پر ڈالا ہے۔
ان کا کہنا تھا رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ کس طرح کسان کو مسلسل نقصان پہنچایا گیا۔ مارکیٹ میں مختلف حربوں سےچینی مہنگی کی گئی۔
انہوں نے بتایا تھا کہ 2019 کی نسبت 2020 میں گنا مہنگا بیچا گیا۔ رپورٹ کے مطابق وفاق نے 15.20 ارب روپے کی سبسڈی دی اور سندھ حکومت نے 9.3 ارب روپے کی سبسڈی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدات کی مد میں 58 فیصد چینی افغانستان جاتی ہے۔
