اسلام آباد: چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے دہشت گردی کی تاریخ بہت پرانی ہے اور پچھلے دو ہزار سال سے دہشتگردی کا مسئلہ چل رہا ہے۔
اسلام آباد میں دہشت گردی سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے پر پوری دنیا میں تحقیق کی جا رہی اور پوری دنیا اس کا حل نکالنا چاہتی ہے۔ پوری دنیا دہشتگردی کے مسائل سے لڑ رہی ہے۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تحقیقات کے بل بوتے پر قومیں ترقی کرتی ہیں۔ تحقیقی بنیاد پر جج مقدے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے سکتا ہے۔ کسی معاشرے کے اقدار جانے بغیر اصلاحات کا عمل بے اثر ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عسکریت پسندی اور دہشتگردی کے حوالے سے کچھ دن پہلے ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے۔ دہشتگردی کے تین پہلو ہیں جن میں سیاسی، نظریاتی اور مذہبی ہیں۔
تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے اور مختلف تنظیموں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ مختلف نام سے جنگ لڑنے والے گروپس بعض کے نزدیک دہشت گرد ہیں جبکہ بعض انہیں آزادی کی جنگ لڑنے والے ہیرو قرار دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی و مذہبی مقاصد کے لیے دنیا بھر میں تشدد کے طریقے اپنائے جاتے رہے ہیں۔ افغان جب روس کے خلاف لڑ رہے تھے تو وہ مجاہدین تھے۔ امریکی قابض افواج کے خلاف جب یہ لڑے کو دہشت گرد کہلائے۔ نائن الیون کے بعد ان مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان کا نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ ہمیں دوسرممالک سے سیکھنا چاہیے جہاں دہشت گردی کا مسئلہ تھا لیکن انہوں نے دہشت گردی پر قابو پایا۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس سے منسوب غلط خبریں چلائی گئیں، ترجمان سپریم کورٹ
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کوشش تھی کہ فاٹا کے انضمام کے بعد انصاف کی فراہمی پر توجہ دی جائے۔ میں نے اس حوالے سے کچھ ریفارمز بھی تجویز کی ہیں۔ خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقوں میں بہترین ججز بھیجنے کو کہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ میں 25 آئینی ترمیم کے بعد پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے کہا کہ اچھے اور قابل ججز لگائیں۔ تاکہ انصاف فراہم کیا جا سکے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ماڈل کورٹس کے ججز بڑی ایمانداری سے کام کر رہے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں ان کی بہت اشد ضرورت ہے۔ تمام قبائلی علاقوں میں اچھے پولیس آفیسرز اور ججز تعینات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ججز وکلاء اور عملے کی تربیت پر توجہ دے رہے ہیں
