’جماعت اسلامی کو ٹرمپ کی ثالثی پر اعتماد نہیں‘

فائل فوٹو


بنوں: امیر جماعت اسلامی پاکستان و سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی پر اعتماد نہیں ہے۔

بنوں میں میڈیا بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے کیونکہ کمشیر پاکستان کی نظریاتی شہ رگ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فوج  نے کمشیر میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے، 45 دن ہوگئے ہیں کہ کرفیو کا سلسلہ جاری ہے مگر نہ اسلامی دنیا اور نہ ہی مغربی دنیا کی طرف سے کرفیو کے خاتمے کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ دنیا خود کہتی ہے کہ کشمیر اجتماعی بڑی قبر ہے، ہماری جماعت بار بار کہتی ہے کہ کشمیر کے لیے زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔

جماعت اسلامی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی پر اعتماد نہیں ہے کیونکہ امریکی صدر کبھی پاکستان کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا، حکومت پاکستان بھی اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ ساری جماعتیں سیاسی احتلافات اپنی جگہ رکھ کر کشمیر کا معاملہ حل کریں، حکومت اس وقت قومی یکجہتی پیدا کرے۔

جماعت اسلامی کے امیر کا کہنا تھا کہ اس وقت وزیر اعظم عمران خان ملک سے باہر ہیں ہم انہیں یہ پیغام دے رہیں کہ بہادری کے ساتھ قوم کی ترجمانی کریں۔ وزیر اعظم امریکہ میں کشمیریوں اور عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے بھی بات کریں اور عافیہ صدیقی کو جہاز میں ساتھ  لے کر آئیں۔

ملین مارچ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر میں ہونے والا ملین مارچ جے یو آئی کا اپنا فیصلہ ہے، وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ اسلام آباد میں کوئی بھی ملین مارچ کرے گا یا دھرنا دے گا تو ہم کنٹینر دیں گے اور چائے، پانی بھی۔

جماعت اسلامی کی ملین مارچ میں شمولیت کا حوالے سے سراج الحق نے کہا کہ ملین مارچ میں مسلم لیگ ن اور پی پی پی نے شرکت کرنے کا عندیہ دیا ہے یہ دو پارٹیاں کافی ہیں۔


متعلقہ خبریں