عدلیہ کسی کے کہنے پر قدم نہیں اُٹھا ئے گی، چیف جسٹس

سپریم کورٹ

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ عدلیہ کسی کے کہنے پر قدم نہیں اٹھائے گی،  اس سے یہ سوال اٹھے گا کہ لوگوں کے کہنے پرایکشن لیا گیا۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل پر درخواست کے سماعت کے دوران انہوں نے کہا کہ عمومی بیانات کے ذریعے پورے ادارے کو بدنام کرنے کی روایت جڑ پکڑ چکی ہے، ایک شخص کے خراب ہونے پر سب کو ایسا سمجھا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ سارے جج ایسے ہیں، سارے سیاستدان ایسے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو اپنا کام کرنے دیں، سچ کی تلاش کی جا رہی ہے۔

سماعت کے آغاز میں درخواست گزار اشتیاق احمد مرزا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے 6 جولائی کو لاہور میں پریس کانفرنس میں الزامات لگائے جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ عدلیہ آزادی سے کام نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے لئے اٹھنے والے سوال پر انکوائری ہونی چاہیے،جج ارشد ملک کے بیان حلفی میں دو الزامات سنگین نوعیت کے ہیں ان کی بھی انکوائری ہونی چاہیے۔

وکیل نے کہا کہ  تمام سیاسی جماعتیں اور وکلا نے ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کا کہا، لہٰذا ایک کمیشن بنایا جائے، بے شک یہ کمیشن ایک رکنی ہی کیوں نہ ہو۔

وکیل کے جواب پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کمیشن کا سربراہ کون ہو، جس پر وکیل نے کہا کہ جج کمیشن کے سربراہ ہو۔

اس موقع پر وکیل اسد طارق نے کہا کہ ایک جج تاریخی کیس کی سماعت کے دوران جاتی امرا جاتا ہے کبھی عمرے پر ملاقتیں ہوتی ہیں، جج اتنے اہم مقدمات کے دوران ملاقاتیں کرتے رہے حکومت اور ایجنسیاں کہاں تھیں،ان کی نقل حرکت پر نظر کیوں نہیں رکھی گئی؟

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ اپنی درخواست میں اداروں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں اور دلائل میں مخالفت کررہے ہیں، اس پر وکیل نے کہا کہ میں ایسا نہیں کہنا چاہتا میں کہہ رہا ہو کہ عدلیہ کے معاملات میں ادارے مداخلت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالت میں اٹارنی جنرل کے سربمہر لفافے پر فیصلہ دیا جاتا ہے، جس جج پر الزامات لگے ہوں اس کے فیصلوں کی کیا حثییت ہو گی، جج کا طرز عمل ثابت کر رہا ہے کہ وہ بدعنوانی میں ملوث ہیں۔

بعد ازاں وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے اٹارنی جنرل کو معاونت کے لئے طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 23 جولائی تک ملتوی کر دی۔

خیال رہے انکوائری کے لیے دائر تین مختلف درخواستوں پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

درخواستیں اشتیاق احمد مرزا،  سہیل اختر اور ایڈوکیٹ طارق اسد نے دائر کی ہیں جس میں وفاقی حکومت، نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اور راجہ ظفر الحق کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواستوں میں جج ارشد ملک، ویڈیو کے مرکزی کردار ناصر بٹ اور پیمرا کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

دائر درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ منظرعام پر آنے والی ویڈیو کی انکوائری کا حکم دے اور جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عدلیہ کے وقار کو برقرار رکھنے کیلئے ملوث افراد کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے مسلم لیگ (ن) نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں مبینہ طور پر یہ بتایا گیا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے دباؤ میں آکر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا سنائی۔

اس معاملے پر کابینہ اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔


متعلقہ خبریں