تحریک انصاف کی حکومت گراناکوئی مسئلہ نہیں، رانا ثناءاللہ



لاہور: سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نمبر گیم کے حساب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت گرانا کوئی مسئلہ نہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کے 156 ووٹ ہیں جبکہ حکومت کے بھی 156 ووٹ ہیں، ان کو چار ووٹ کی اکثریت حاصل تھی، یہ چار بھی بی این پی کے تھے جو ان سے علیحدہ ہو چکی ہے اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) بھی ان سے علیحدہ ہونا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی زمانے میں ضیاء الحق نے استخارہ کر کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگا دی، اس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے اور اب عمران خان نے پنکی پیرنی کے استخارہ سے نام نکال کر عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دیا ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی نا اہلی کے باعث سانحہ ساہیوال ہوا، یہ کیبنٹ میں فیصلہ ہوا کہ لوگوں میں دہشت پھیلانے کے لیے لوگوں کے گھر اور دکانیں توڑو اور لوگوں کو دن دہاڑے سیدھی گولیاں مارو۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کا موقف پرانا ہے کہ اگر پولیس سیدھی گولیاں مارے تو سمجھو حکم اوپر سے آیا ہے، سانحہ ساہیوال میں پولیس نے سیدھی گولیاں ماری تو سمجھو حکم اوپر سے ہی آیا ہے، یہی وجہ ہے کہ سانحہ ساہیوال رونما ہونے کی ایک گھنٹے کے اندر اندر پوری حکومت پولیس کا دفاع کر رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح سے یہ حکمران ملک کو دلدل میں دھکیل رہے ہیں، ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا گیا اور ملک کو جس طرف لے جایا جارہا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا کوئی بعد میں آنے والا اس ملک کو اس دلدل سے نکال پائے گا۔

نواز شریف کو مفروضوں کی بنیاد پر سزا دی گئی

سابق وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو مفروضوں کی بنیاد پر سزا دی گئی، ایسا عدالتی تاریخ میں 70 سال سے نہیں ہوا، ملک کا قانون ہے کہ مفروضوں کے اوپر سزا نہیں دی جا سکتی، میاں نواز شریف کو مفروضوں کی بنیاد پر جیل میں بند کر کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور انہیں ایک مرتبہ بیٹے سے پیسے نہ لینے پر نااہل کیا گیا اور دوسری مرتبہ انہیں بیٹے سے پیسے لینے پر قید کر دیا گیا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سانحہ ساہیوال کا فیصلہ وفاقی کابینہ سے ہوا یا پنجاب کابینہ سے ہوا؟ سوال کے جواب میں رانا ثناءاللہ نے کہا کہ پنجاب لیول پر کوئی فیصلہ نہیں ہوتا، سارے فیصلے بنی گالہ میں ہوتے ہیں، سانحہ ساہیوال کی ذمہ داری بھی بنی گالہ پر ہے اور باقی بھی جو معاملات ہیں ان کی ذمہ داری بنی گالہ پر ہے، ہمیں سانحہ ساہیوال کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی پر پورا اعتماد ہے، امید ہے سانحہ کے لواحقین کو انصاف ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 100 مرتبہ حکومتی وزراء کی گالیاں سنی اس کے بعد ہم نے ان کی باتوں کا جواب دینا شروع کیا ہے، ہم حکومتی وزراء کو بھر پور جواب دیں گے۔

 

 


متعلقہ خبریں