سانحہ ساہیوال، وکیل شہباز بخاری کا سی ٹی ڈی افسران پر دھمکیوں کا الزام



اسلام آباد: سانحہ ساہیوال سے متاثرہ خاندان کے وکیل شہباز بخاری نے محکمہ انسداد دہشت گردی پر دھمکیاں دینے کا الزام عائد کردیا۔

پروگرام ’ندیم ملک لائیو‘ میں میزبان ندیم ملک سے گفتگو کرتے ہوئے سانحہ ساہیوال کے متاثرہ خاندان کے وکیل شہبازبخاری نے الزام لگایا کہ انہیں سی ٹی ڈی افسران کیس سے الگ ہونے کی دھمکیاں رے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان نے بھی جے آئی ٹی سے سیکیورٹی مانگی ہے۔

دوسری طرف اسی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مقتول خلیل کے بھائی جلیل نے دھمکیاں ملنے کی تردید کی اور شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزادینے کا مطالبہ کیا۔

مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے ذیشان کی اہلیہ نے موقف اپنایا کہ ان کے شوہرکمپیوٹر کے کاروبار سے وابستہ تھے، ان کا اہلحدیث یوتھ فورس سے تعلق رہا لیکن ان کا دہشتگردی سے کسی بھی طرح کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

انہوں نے حکومت سے اپنے شوہر پر دہشتگرد کی چھاپ ہٹانے اور اںصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ یہ پولیس اسٹیٹ بن چکی ہے، ملک میں انصاف کے معاملے پر دوہرا معیار ہے جس کے باعث ملک میں ماورائے قانون معاملات پر بحث نہیں ہوپاتی۔ راؤانوار معصوم لوگوں کو قتل کرکے گھر بیٹھا ہے، اس سے وی آئی پی سلوک کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایس پی داوڑ اور مولانا سمیع الحق کے واقعات پر عمران خان نے سخت ردعمل کا اظہارکیا تھا لیکن اب تک ان معاملات میں کچھ بھی نہیں ہوسکا۔

تحریک انصاف کے رہنما علی محمد نے کہا کہ وزیراعظم سانحہ ساہیوال پر بہت غصے اور جذباتی تھے کہ یہ کیوں ہوا، یہ جو ہوا اس کا سب کو دکھ ہے، جس نے زیادتی کی ہے انہیں ضرورسزا ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی کا انتظار ہے، قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔

حکومتی بجٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے لیگی رہنما محمد زبیر نے کہا کہ حکومت نے جتنے بھی اقدامات اب اٹھائے ہیں، اگر یہ پہلے کردیتی تو ملکی معیشت کو نقصان نہ پہنچتا۔

انہوں نے کہ یہ بجٹ حکومت کی ناکامی ہے، اس کے نیتجے میں جو کچھ ہوگا اسے کیسے کنٹرول کریں گے، یہ حکومت نے نہیں بتایا۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے آرمی چیف نے بھی کوششیں کی ہیں۔

محمدزبیرکا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے جو کہا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔پرویزمشرف بھی یہی کہتے تھے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کونسی قوتیں ہیں جن کی انہوں نے بات کی ہے۔

اپنے بھائی وزیرخزانہ اسدعمرکے حوالے سے کہا کہ ان کا بھائی ہونے پر فخر ہے لیکن ان کی پالیسی اور کارکردگی سے اختلاف ہے۔

اس حوالے سے علی محمد نے کہا کہ اسد عمراور عمران خان کو خراب معیشت ورثے میں ملی، اب دنیا اعتماد کررہی ہے تو ہم شعبے میں اصلاحات کے لیے کوشش کررہے ہیں۔ بجٹ میں کاروباری افراد کو سہولیات د ی گئی ہیں

انہوں نے پروگرام کے دوران محمدزبیرسے یہ بھی کہا کہ ہربحث کے دوران اداروں کو درمیان میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔

معروف کاروباری شخصیت عارف حبیب نے کہا کہ حکومت کے اصلاحتی پیکج کا مقصد آمدنی بڑھانا نہیں بلکہ ملک میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ کرنٹ اکاونٹ خسارے کو سنبھالنا حکومت کے لیے سب سے بڑا چینلج ہے۔


متعلقہ خبریں