سندھ اسمبلی اجلاس، کراچی میں پانی کے بحران پر اراکین کی بحث


کراچی: وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پانی کی تقسیم کا سسٹم پرانا ہے اور اسے فوری طور پر تبدیل نہیں کر سکتے ورنہ کراچی میں پانی کا بحران پیدا ہو جائے گا۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت سوا گھنٹے سے زائد تاخیر سے شروع ہوا۔

تحریک انصاف کے رکن جمال صدیقی نے توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مارٹن کوارٹر، پی آئی بی اور پٹیل پاڑہ کے علاقوں میں گندہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے۔ لوگ گندے پانی سے وضو کر رہے ہیں۔ کوئی بچہ یہ پانی پی کر مر جائے گا تو اسکا ذمہ دار کون ہو گا ؟

انہوں ںے کہا کہ حکومت ان علاقوں میں کام نہیں کر رہی جہاں سے اسے شکست ہوئی ہے، وزیر بلدیات بتائیں یہ مسئلہ کب حل ہو گا۔

صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے پانی کی فراہمی میں امتیازی سلوک کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست نہیں کہ مخالفین کے علاقوں کو پانی نہیں دیا جا رہا ہے اور جہاں گندا پانی آرہا ہے وہاں کے ذمہ داروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہیے۔

ایم کیو ایم کے وسیم قریشی نے کہا کہ این ای کے کی لائن سے سی او ڈی پمپنگ اسٹیشن اور ڈسٹرک ویسٹ کو پانی دیا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے نارتھ کراچی میں پانی کی شدید قلت ہے۔ نارتھ کراچی کے عوام کے ساتھ سوتیلا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے۔

سعید غنی نے جواب دیا کہ سال 2006 سے ان علاقوں کو پانی دیا جا رہا ہے اور یہ سسٹم نیا نہیں ہے۔ ہم دوسرے علاقوں کا پانی نہیں روک سکتے کیونکہ پانی کا بحران ہو گا تو عوام پریشان ہوں گے۔

سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران بجلی چلی گئی اور اسمبلی کی کارروائی اندھیرے میں بھی جاری رکھی گئی۔


متعلقہ خبریں