شہری پر تشدد، عمران علی شاہ پر 5 لاکھ روپے جرمانہ


کراچی: شہر قائد میں شہری پر تشدد کرنے کے جرم میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عمران علی شاہ پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا گیا۔

پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے صدر فردوس شمیم نقوی نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کسی شہری کے ساتھ نارواسلوک برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عمران علی شاہ نے پارٹی کے سامنے اپنا جرم قبول کیا ہے تاہم تمام حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے انضباطی کمیٹی نے جرمانے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جرمانے کی رقم سے ضعیف، بیمار اور ایدھی سینٹر میں موجود 20 لوگوں کا علاج کرایا جائے گا۔ کمیٹی نے ڈاکٹر عمران علی شاہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ ایسی غلطی کی گئی تو انہیں پارٹی سے خارج بھی کیا جا سکتا ہے۔

تحریک انصاف کے نو منتخب رکن سندھ اسمبلی عمران علی شاہ نے اسٹیڈیم روڈ کے قریب ایک شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ڈاکٹرعمران علی شاہ متاثرہ شہری داؤد چوہان کے گھر بھی گئے تھے اور ان سے اپنے رویے پر معافی مانگی تھی۔ داؤد چوہان نے اس موقع پر کہا تھا کہ وہ یہ معاملہ پارٹی چیئرمین اور وزیراعظم عمران خان پر چھوڑتے ہیں۔

پارٹی چیئرمین عمران خان نے اس واقعے کا نوٹس لیا اور ڈاکٹر عمران علی شاہ کی پارٹی رکنیت معطل کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی تھی۔

واقعے کے کچھ دن بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی واقعے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے فریقین کو عدالت طلب کرلیا تھا، تاہم جب انہیں آگاہ کیا گیا کہ متاثرہ شہری ایم پی اے عمران علی شاہ کو معاف کر چکا ہے تو کیس خارج کردیا گیا تھا۔

ڈاکٹر عمران علی شاہ کراچی کے معروف سرجن اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر محمد علی شاہ کے بیٹے ہیں۔


متعلقہ خبریں