وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات جیب سے ادا کرتا تھا، نواز شریف

نوازشریف اور مریم نواز ہیتھرو ایئرپورٹ کیلئے روانہ | urduhumnews.wpengine.com

اسلام آباد: مسلم لیگ نون کے تاحیات قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ جب وزیر اعظم تھے تو وزیر اعظم ہائوس کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ کے ریفرنسز کی سماعت کے موقع پر صحافیوں سے عیر رسمی گفتگومیں ان کا کہنا تھا کہ پرائم منسٹر ہاؤس کے اخراجات وہ خود اٹھاتے تھے اور ان کی ادائیگی چیک کے ذریعے کی تھی۔

نواز شریف سے پوچھا گیا کہ آج اسلام اباد ہائیکورٹ میں احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف ان کی اپیل کی سماعت ہے تو انہوں نے کہا کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے خواجہ حارث اپیل کی پیروی کے لیے جا رہے ہیں۔

جب ایک صحا فی نے پوچھا کہ سنا ہے آپ عید سے پہلےجیل سے باہر آرہے ہے تو نواز شریف نے بر جستہ کہا کہ اللہ اپکی زبان مبارک کرے۔

پیر کے روز نواز شریف کمرہ عدالت میں پرویز رشید سےکافی دیر محو گفتگو رہے۔ اس دوران طارق فضل چوہدری اور چوہدری تنویر بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے جب کہ احسن اقبال سماعت ختم ہوتے وقت عدالت پہنچے۔

احتساب عدالت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے بھی ان سے طویل ملاقات کی۔ خو اجہ حارث نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت درخواست ضمانت پر نواز شریف کو تفصیلی بریفننگ دی۔ نواز شریف اور خواجہ حارث کی ملاقات 15 منٹ تک جاری رہی۔

اسلام اباد کی احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے سپریم کورٹ کے حکم پر دائر ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں نواز شریف کو دس سال قید اور دس ملین پونڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اس کیس میں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو سات سال قید اور 2.6 ملین پائونڈ جرمانے کی سزا سنائی ہوئی تھی جب کہ مریم کے شوہر کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی  تھی۔ تینوں اس وقت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید کاٹ رہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم اور ان کی صاحبزادی و داماد نے احتساب عدالت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ شریف فیملی کی جانب سے دائر سزاؤں کی معطلی کی درخواستوں کو سن رہا ہے۔ گزشتہ سماعت پر غیرضروری التوا مانگنے پرعدالت کی جانب سے نیب کو دس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

 


متعلقہ خبریں