یورپ میں مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کا سلسلہ اب ٹیلی ویژن نشریاتی اداروں تک پھیل گیا ہے جبکہ حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ان واقعات کے پیچھے کاپی کیٹس (افراد یا واقعات کی نقل کرنے والے افراد) یا افواہیں پھیلانے والے عناصر ہیں یا پھر یہ یورپ کو مسلسل دباؤ اور خوف میں مبتلا رکھنے کی منظم مہم کا حصہ ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منگل سے یورپ بھر میں درجنوں مسافر پروازوں کو بم دھمکیاں موصول ہوچکی ہیں جن کے باعث طیاروں کا رخ تبدیل کرنا پڑا، بعض پروازوں کو غیر مقررہ ہوائی اڈوں پر اتارا گیا اور کچھ کو فوجی لڑاکا طیاروں نے حفاظتی حصار فراہم کیا۔ گزشتہ روز آئرلینڈ اور بلغاریہ کے ٹی وی نیوز رومز کو بھی بم دھمکیاں موصول ہوئیں جس کے بعد عمارتیں خالی کرالی گئیں۔ تاہم اب تک کسی مقام سے دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوسکا۔
آئرلینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی ای نے بم دھمکی موصول ہونے کے بعد اپنے دفاتر خالی کرالیے اور معمول کی نشریات عارضی طور پر معطل کردیں۔ پیغام میں خبردار کیا گیا تھا کہ 45 منٹ کے اندر دھماکا ہوگا۔ بلغاریہ کے ٹی وی چینل نووا نے بھی اپنا نیوز روم خالی کرایا تاہم پولیس کی تلاشی میں کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے اسکائی نیوز نے بھی سکیورٹی الرٹ کی اطلاع دی۔

رائٹرز کے مطابق آر ٹی ای اور نووا کو بھیجی گئی ای میلز پر ’میخائل آندروپوف‘ کا نام درج تھا اور ان کا عنوان ’مغرب کے نام پیغام‘ تھا۔ پیغام بھیجنے والے نے حالیہ پروازوں کو بم دھمکیاں دینے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں یورپ کے ٹرانسپورٹ نظام کے خلاف حملوں کا آغاز قرار دیا۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ پیغامات کس نے بھیجے، ان کا آغاز کہاں سے ہوا یا طیاروں کو دھمکیاں دینے کے پیچھے بھی وہی شخص تھا۔
پروازوں میں بم دھمکیوں کا سلسلہ کیسے شروع ہوا؟
دھمکیوں کا پہلا سلسلہ منگل کو اس وقت شروع ہوا جب کم از کم 7 مسافر پروازوں اور اسرائیل جانے والے ایک کروز جہاز کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ اس کے بعد وارسا، صوفیہ، روم اور مرسیا جانے والے طیاروں کی تلاشی لی گئی یا ان کا رخ تبدیل کیا گیا جبکہ روم جانے والی ایک پرواز کو اطالوی لڑاکا طیاروں نے حفاظتی حصار میں منزل تک پہنچایا۔ تاہم کسی بھی طیارے سے دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔

جمعرات کو یورپ بھر میں تقریباً 30 پروازوں کو ایسی ہی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ بعض طیاروں کو غیر مقررہ ہوائی اڈوں پر اتارا گیا جبکہ دیگر پروازوں میں تاخیر ہوئی یا ان کا رخ تبدیل کرنا پڑا۔ صرف پراگ جانے والی 4 پروازوں کو بم دھمکیاں ملیں۔ چیک پولیس نے ان دھمکیوں کو کم خطرے کا حامل قرار دیا تاہم طیاروں کی لینڈنگ کے بعد سکیورٹی اقدامات 0اور دھماکا خیز مواد کی تلاش کا انتظام کیا گیا۔
جمعہ کو پروازوں کے حوالے سے واقعات میں کمی آئی تاہم بم دھمکیوں کا دائرہ کار وسیع ہوگیا۔ پراگ سے روم جانے والی وِز ایئر کی ایک پرواز کو بم دھمکی کے بعد وینس کی جانب موڑ دیا گیا جبکہ بعض مسافر طیاروں کو فوجی جہازوں نے حفاظتی حصار فراہم کیا۔ حکام کے مطابق نیٹو نے بھی خطے میں اضافی فضائی گشت کیا۔
جھوٹی دھمکیاں بڑی رکاوٹ کا سبب کیوں بنتی ہیں؟
حکام بم کسی دھمکی کو محض اس لیے نظرانداز نہیں کرسکتے کہ اس سے پہلے موصول ہونے والی دھمکیاں جھوٹی ثابت ہوئی تھیں۔ فضائی سکیورٹی ٹیموں کو ہر دھمکی کا الگ الگ جائزہ لینا پڑتا ہے اور خطرے کی نوعیت کے مطابق طیارے کا رخ تبدیل کرنے، لینڈنگ کے بعد اسے الگ کھڑا کرنے، بم ڈسپوزل ٹیموں سے تلاشی لینے یا فوجی لڑاکا طیارے مامور کرنے جیسے اقدامات کرنا پڑسکتے ہیں۔
ایک گمنام ای میل کے نتیجے میں طیارے کو اضافی ایندھن استعمال کرنا پڑ سکتا ہے، عملے کے شیڈول متاثر ہوسکتے ہیں، ہوائی اڈے کے بعض حصے بند کیے جاسکتے ہیں اور سیکڑوں مسافروں کے علاوہ ایئرلائن کی دیگر رابطہ پروازیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق ایسی دھمکیاں دینے والے کو بہت کم خرچ کرنا پڑتا ہے جبکہ ہدف بننے والے ادارے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خلل ڈالنے کا ایک پرکشش طریقہ ہے۔
یہی صورتحال نشریاتی اداروں کے معاملے میں بھی سامنے آئی ہے۔ آر ٹی ای کو ملازمین عمارت سے باہر نکالنا پڑے جس کے باعث کئی گھنٹے تک معمول کی نشریات متاثر رہیں۔ دھماکا خیز مواد نہ ملنے کے باوجود دھمکی دینے والا ادارے کے معمولات متاثر کرنے اور پولیس و سکیورٹی اداروں کو کارروائی پر مجبور کرنے میں کامیاب رہا۔
کیا یہ ہائبرڈ جنگ ہے؟
ان واقعات کے پیمانے اور وقت نے بعض یورپی حکام کو انہیں ہائبرڈ یا ’گرے زون‘ کارروائیوں کے تناظر میں دیکھنے پر مجبور کردیا ہے۔
اسپین کے وزیر خارجہ ہوزے مینوئل الباریس نے یورپ کو درپیش صورتحال کو ’ہائبرڈ جارحیت اور نفسیاتی جنگ کی ایک شکل‘ قرار دیا ہے۔
ہائبرڈ سرگرمیوں میں روایتی فوجی تصادم کے بغیر کسی ملک کو کمزور یا غیر مستحکم کرنے کی کوششیں شامل ہوتی ہیں۔ یورپی یونین کے مطابق ان میں سائبر حملے، معلومات میں ردوبدل، معاشی دباؤ، خفیہ سیاسی سرگرمیاں اور دیگر طریقے شامل ہوسکتے ہیں جبکہ ان کے ذمہ داران کا تعین کرنا مشکل ہوتا ہے۔

نیٹو کے مطابق تخریب کاری، سائبر کارروائیوں، دھوکا دہی اور معلومات میں ردوبدل جیسے ہائبرڈ طریقوں کا مقصد معاشروں کو غیر مستحکم کرنا اور امن و تنازع کے درمیان فرق کو دھندلا کرنا ہوتا ہے۔
جھوٹی بم دھمکیاں بھی اس طرز کی کارروائیوں سے مطابقت رکھتی ہیں کیونکہ ان پر عمل درآمد کے لیے کم وسائل درکار ہوتے ہیں، ذمہ داروں کی شناخت مشکل ہوتی ہے اور حکام کو ہر دھمکی پر کارروائی کرنا پڑتی ہے۔
روس کا نام کیوں لیا جا رہا ہے؟
روس پر شکوک کی ایک بڑی وجہ 2022 میں یوکرین پر اس کے مکمل حملے کے بعد یورپ میں پیش آنے والے واقعات ہیں۔
یورپی حکومتیں ماسکو یا روس سے منسلک عناصر پر تخریب کاری، سائبر حملوں، اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے، الیکٹرانک مداخلت اور اثر و رسوخ کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یوکرین پر حملے کے بعد روس کی ہائبرڈ سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے جن میں تخریب کاری، سائبر کارروائیاں، بنیادی ڈھانچے پر حملے اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ نیٹو نے بھی روس پر اتحادی ممالک کے خلاف ایسی ہی وسیع مہم چلانے کا الزام عائد کیا ہے۔
یورپی یونین کی ٹیکنالوجی کمشنر ہینا ویرکونن نے رواں ہفتے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو 2022 سے اس نوعیت کی مختلف کارروائیوں کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔‘ ان کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد معاشروں کو غیر مستحکم کرنا اور عوام کا اعتماد کمزور کرنا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر ہائبرڈ کارروائی کا ذمہ دار روس نہیں ہوتا۔
موجودہ واقعات کے حوالے سے یہ فرق اہم ہے کیونکہ کسی بھی حکومت نے اب تک ایسے شواہد پیش نہیں کیے جن سے ثابت ہو کہ ان بم دھمکیوں کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے۔ ماسکو نے یورپ میں وسیع تر ہائبرڈ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے۔
بم دھمکیوں میں روس کا حوالہ کیا ثابت کرتا ہے؟
یہ ضروری نہیں کہ بعض دھمکی آمیز پیغامات میں روسی حوالوں کی موجودگی کسی حقیقی تعلق کا ثبوت ہو۔
جمعرات کو اٹلی میں ایئرلائنز اور ہوائی اڈوں کو بھیجی گئی بم دھمکیوں میں ان کا ذمہ دار ’میل اسٹیٹ‘ نامی گروہ کو قرار دیا گیا تھا۔ یہ روس کی ایک انتہائی دائیں بازو کی تحریک ہے جو حقوق نسواں کی مخالفت کرتی ہے اور جس پر روس میں پابندی عائد کی جاچکی ہے۔
گروہ کے بانی روسی بلاگر ولادیسلاو پوزدنیاکوف نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ تحریک اب موجود نہیں ہے اور انہوں نے ان دھمکیوں میں ملوث ہونے کی تردید کی۔

جمعہ کو آر ٹی ای اور نووا کو موصول ہونے والی ای میلز پر بھی ’میخائل آندروپوف‘ کا نام درج تھا۔ تاہم روسی ناموں یا تنظیموں کا حوالہ دینے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کارروائیوں کے پیچھے روس ہی ہے۔
یہ ممکن ہے کہ ان حوالوں کا کسی حقیقی تعلق سے واسطہ ہو، کوئی فرد روسی انتہا پسند گروہوں کی نقل کر رہا ہو یا جان بوجھ کر ایسے نشانات چھوڑ رہا ہو تاکہ تفتیش کاروں اور عوام کی توجہ روس کی جانب مبذول کرائی جاسکے۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ دھمکیاں یوکرین کی حمایت کرنے والے یورپی ممالک کے خلاف کسی مربوط مہم کا حصہ ہوسکتی ہیں۔ تاہم ان کے پیچھے سیاسی یا ذاتی شکایات رکھنے والے انفرادی افراد، مختلف آن لائن گروہ یا پہلے واقعات سے متاثر ہوکر ان کی نقل کرنے والے بھی ہوسکتے ہیں۔
یورپ میں ہو کیا رہا ہے؟
فی الحال یورپ میں مختلف مقامات پر بم دھمکیوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا ایک واضح سلسلہ سامنے آیا ہے تاہم کسی ذمہ دار شخص یا گروہ کی شناخت عوامی سطح پر نہیں کی گئی۔
آئرلینڈ کے وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا ہے کہ حکام ابھی تک یہ طے نہیں کرسکے کہ ان واقعات کے پیچھے انفرادی افراد ہیں یا کوئی مربوط مہم کام کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی دھمکیاں آسانی سے خوف و ہراس پیدا کرسکتی ہیں۔
اگر تفتیش کار ان واقعات کے درمیان رابطے یا کسی ریاست کی سرپرستی کے شواہد حاصل کرلیتے ہیں تو یہ یورپ میں ہائبرڈ کارروائیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک اور واقعہ بن کر ابھر سکتا ہے۔
تاہم اگر ایسا ثابت نہ بھی ہوسکا تو یہ واقعات حکومتوں اور ایئرلائنز کو درپیش ایک اہم مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بم دھمکی مؤثر ہونے کے لیے اس کا حقیقی ہونا ضروری نہیں۔
جب تک حکام یہ طے نہیں کرتے کہ کون سی دھمکی حقیقی ہوسکتی ہے اس وقت تک ہر نئے پیغام پر انہیں اسی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔
