ایران کے جنوبی جزیرے قشم پر 2 میزائل گرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم ایرانی حکام نے تاحال واقعہ یا اس کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصان کی تصدیق نہیں کی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ابتدائی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ متعلقہ حکام کی تصدیق کے بعد واقعہ کی مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
ایران کا جزیرہ قشم آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملانے والا اہم سمندری راستہ ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے اس لیے اس علاقے میں فوجی سرگرمیوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
رائٹرز کے مطابق اس سے قبل ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے مقامی عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا تھا کہ جزیرے پر طیارے کی آواز سنائی دینے کے بعد قشم کے علاقے سوزا میں دو پروجیکٹائل گرے تھے۔
امریکا، ایران جنگ خاتمے کے معاہدے پر نہیں پہنچ سکے، قطر
دوسری جانب قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس نے ہفتے کو ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ امریکا اور ایران جنگ ختم کرنے کے معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ قطری حکام نے ان اطلاعات کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک معاہدے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیان کے مطابق قطر کے وزیر اعظم نے تصدیق کی ہے کہ دونوں فریق معاہدے کے لیے کام کر رہے ہیں اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات واشنگٹن اور تہران کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے جاری ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز اور قشم جزیرے کے قریب امریکی ڈرون مار گرانے کے متعدد دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے 2 نومبر کو ایک امریکی ایم کیو 9 ریپر اور دو ایم کیو ایم 170 ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ 4 اور 6 نومبر کو قشم جزیرے کے اوپر مزید 2 امریکی ایم کیو ون ڈرونز تباہ کرنے کے دعوے کیے گئے۔
ان واقعات کی امریکا کی جانب سے فوری تصدیق نہیں کی گئی البتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے محدود فوجی کارروائی قرار دیا تھا۔ اس سے قبل پیر کو بھی امریکی فورسز نے قشم جزیرے پر حملے کیے تھے جنہیں امریکی حکام نے دفاعی کارروائی قرار دیا تھا۔



