ایران کے رکن پارلیمنٹ حسین علی حاجی دلیگانی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملے کی صورت میں ایرانی جوابی میزائل یورپ تک پہنچ سکتے ہیں جبکہ نئی جنگ کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرسکتی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق رکن پارلیمنٹ حسین علی حاجی دلیگانی کا کہنا تھا کہ کسی بھی نئی فوجی جارحیت کا ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر جواب دیا جائے گا اور جوابی میزائلوں کی رینج یورپی سرزمین تک محیط ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا ردعمل ممکنہ حملے کے حجم یا جغرافیائی مقام تک محدود نہیں ہوگا بلکہ جوابی کارروائی وسیع، کئی گنا زیادہ شدید اور تزویراتی نوعیت کی ہوگی جس میں جغرافیائی حدود کو پیش نظر نہیں رکھا جائے گا۔
ایرانی رکن پارلیمنٹ نے خبردار کیا کہ ایسی فوجی کشیدگی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے اوپر لے جاسکتی ہے۔
حسین علی حاجی دلیگانی نے ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کو بھی ایران کے خلاف جنگ کی ایک شکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی افواج مناسب وقت پر امریکی اثاثوں کو نشانہ بنا کر جواب دیں گی۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان امریکی بحری ناکہ بندی، آبنائے ہرمز اور جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے پر کشیدگی برقرار ہے۔
🔴 “The range of the responding missiles will also encompass Europe, and this will lead to the oil price crossing the $150 threshold”
– Hosseinali Haji Deligani, Iranian lawmaker and member of parliament for Shahin Shahr
— Middle East Eye (@MiddleEastEye) November 6, 2026
تاہم ایرانی رکن پارلیمنٹ کے یہ بیانات دھمکیوں اور انتباہات پر مشتمل ہیں، ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایران نے یورپی ممالک کو نشانہ بنانے کا کوئی حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔ انہوں نے کسی مخصوص یورپی ہدف یا میزائلوں کی مزید تکنیکی تفصیلات بھی بیان نہیں کیں۔
یورپ کو دھمکی دینے کی وجہ کیا ہے؟
ایرانی حکام کے حالیہ بیانات میں یورپ کا ذکر خاص طور پر سامنے آیا ہے۔ 4 نومبر کو ایرانی رکن پارلیمنٹ احمد بخشایش اردستانی نے یورونیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ اگر امریکا نے اٹلی اور جرمنی سمیت یورپی ممالک میں موجود فوجی اڈے ایران کے خلاف استعمال کیے تو ایران ان اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق جو ممالک امریکا کو اپنی سرزمین یا فوجی تنصیبات ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دیں گے وہ بھی ممکنہ جوابی کارروائی کے دائرے میں آسکتے ہیں۔ تاہم یورپ پر حملے کی یہ دھمکیاں ایرانی حکام کے بیانات ہیں، کسی حملے کی تصدیق نہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا سخت پیغام
یکم نومبر کو ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے فوجی قیادت سے خطاب میں کہا تھا کہ کسی بھی سطح کے خطرے کا فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے ماورا جواب دیا جائے۔
انہوں نے فوج کو ممکنہ امریکی اور اسرائیلی اہداف کی فہرست اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت بھی کی تھی، ایرانی میڈیا کے مطابق اس فہرست میں فوجی تنصیبات کے علاوہ دیگر مادی اور غیر مادی اثاثے بھی شامل کرنے کا کہا گیا۔
تیل کی قیمت 150 ڈالر تک کیوں پہنچ سکتی ہے؟
ایران کی دھمکیوں کا ایک اہم پہلو عالمی تیل کی منڈی ہے، آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی سطح پر سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ معمول کے حالات میں گزرتا ہے۔
جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے سے تیل کی عالمی ترسیل پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ خلیجی ممالک کی تیل تنصیبات یا جہازوں کو نشانہ بنائے جانے سے سپلائی مزید متاثر ہوسکتی ہے۔
انشورنس، شپنگ اور تیل کی ترسیل کے اخراجات میں اضافے سے عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
ایران امریکا جنگ کا پس منظر
جون 2025: ایران کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ساتھ پہلی 12 روزہ جنگ ہوئی۔
28 فروری 2026: امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے، جس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔
8 اپریل 2026: پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی کا اعلان ہوا، تاہم کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
جون 2026: پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت ہوئی لیکن بنیادی تنازعات حل نہیں ہوسکے۔
نومبر 2026: ایرانی قیادت کی جانب سے نئی امریکی یا اسرائیلی فوجی کارروائی کی صورت میں جغرافیائی حدود سے ماورا جوابی کارروائی کی دھمکیوں میں شدت آئی ہے۔



