اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرلیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف سڑک بند کرنے اور پولیس سے جھگڑے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران پولیس نے مقدمے کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔
دوران سماعت دفاع کے وکیل ریاست علی آزاد نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کا ریکارڈ پیش کردیا گیا ہے۔وکیل نے کہا کہ ’سر، ریکارڈ آج آگیا ہے‘۔اس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ اگر ریکارڈ آج پیش نہ کیا جاتا تو وہ پولیس سے اس بارے میں پوچھتے۔
جج نے فریقین سے فیصلہ سنانے سے قبل مزید کچھ کہنے کے بارے میں دریافت کیا، تاہم بعد ازاں دونوں ملزمان کی ضمانت 5، 5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرلی۔
عدالت نے پولیس کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کے معاملے کا بھی جائزہ لینے کا عندیہ دیا۔جج نے کہا کہ وہ پولیس کو جاری شوکاز نوٹس سے متعلق معاملے کو بھی دیکھیں گے۔
سکیورٹی روٹ کیس میں 10، 10 سال قید کی سزا
واضح رہے کہ 29 اکتوبر کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے دونوں پر جرمانے بھی عائد کیے تھے، جبکہ سرکاری ملازمین کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے اور ان پر حملے کے الگ الگ الزامات میں اضافی سزائیں بھی سنائی گئی تھیں۔
عدالت نے تمام سزاؤں کو ایک ساتھ چلانے کا حکم دیا تھا۔
مقدمہ کیسے درج ہوا؟
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف 25 اکتوبر 2024 کو اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ان پر سکیورٹی رکاوٹیں ہٹانے اور عوام کو اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
دونوں ملزمان نے الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پولیس نے مجسٹریٹ کے حکم کے بغیر سڑک بند کی تھی، اس لیے یہ اقدام غیر قانونی تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ انسداد دہشت گردی عدالت جا رہے تھے اور آگے جانے کی اجازت طلب کرنے سے قبل انتظار بھی کیا تھا۔دونوں نے پولیس پر تشدد کا الزام بھی عائد کیا تھا اور اپنے مؤقف کے حق میں میڈیکل ریکارڈ پیش کیا تھا۔
مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، جہاں ملزمان کی قانونی ٹیم کی جانب سے استغاثہ کے گواہوں پر جرح سے انکار کے بعد عدالت نے سرکاری وکیل مقرر کیا تھا۔استغاثہ کی جانب سے 7 گواہ پیش کیے گئے تھے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے دورانِ سماعت قانونی نمائندگی تک رسائی اور مقدمے کی منصفانہ کارروائی سے متعلق تحفظات بھی ظاہر کیے تھے۔
سوشل میڈیا پوسٹس کا الگ مقدمہ
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 23 جنوری کو سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک الگ مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، جس میں استغاثہ نے ان پوسٹس کو ریاست مخالف قرار دیا تھا۔
سیشن عدالت نے دونوں کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
سپریم کورٹ نے 17 ستمبر کو ان سزاؤں کو معطل کردیا تھا، تاہم اسی روز پولیس نے سکیورٹی روٹ کیس میں دونوں کو دوبارہ گرفتار کرلیا تھا۔
ان کے اہل خانہ نے 29 اکتوبر کو سنائی گئی سزاؤں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
تازہ ضمانت کا فیصلہ سڑک بند کرنے اور پولیس سے جھگڑے کے الزام میں درج الگ مقدمے سے متعلق ہے۔


