وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی ریفائنریز نے حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ برداشت کیا، جس کے نتیجے میں حکومت عوام کے لیے پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے مقامی آئل ریفائنریوں کے تعاون سے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل ہونے سے روک دیا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کو تقریباً 15 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر پٹرولیم کے مطابق عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور درآمدی پریمیم میں اضافے کے باعث پاکستان میں پیٹرول کی قیمت بڑھنے کا خدشہ تھا۔
31 اکتوبر سے قبل منظور ہونے والی قیمت میں پیٹرول کے درآمدی پریمیم کی مد میں تقریباً 20 ڈالر شامل تھے تاہم بعد میں ہونے والے ٹینڈرز میں پریمیم 25 سے 30 ڈالر اور بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ ہو گیا تھا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مقامی ریفائنریوں سے مشاورت کی گئی تاکہ عوام کو مہنگے پیٹرول سے ممکنہ حد تک بچایا جا سکے۔ ملک میں پٹرول کی مجموعی ضرورت کا تقریباً 30 فیصد مقامی ریفائنریز پوری کرتی ہیں جبکہ 70 فیصد پیٹرول درآمد کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریفائنریوں نے مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں متوقع 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ برداشت کرنے میں تعاون کیا، جس سے عوام کو ریلیف دینا ممکن ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی آئی ہے جس کا ریلیف آج عوام کو ملے گا، حکومت نے پہلے بھی ڈیزل کی قیمتوں کے تعین کے لیے ریفائنریوں کے ساتھ خام تیل کی بنیاد پر فارمولا طے کیا تھا، مقامی ریفائنریوں کو خام تیل کی فراہمی یقینی بنانے کے نتیجے میں ان کی پیداواری صلاحیت اور منافع میں بھی بہتری آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ریفائنریوں کے لیے پریمیم کی حد 20 ڈالر فی بیرل مقرر کی ہے۔ اگر درآمدی پریمیم میں اضافہ معمول پر آ کر 15 سے 20 ڈالر کی سطح پر واپس آتا ہے تو حکومت پیٹرولیم سیکٹر کو دوبارہ ڈی ریگولیشن کی جانب لے جانے کی کوشش کرے گی۔
علی پرویز ملک کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہے، جس سے عوام کو مزید ریلیف ملنے کی توقع ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ مسابقت کے ذریعے صارفین کو سستا ایندھن فراہم کیا جائے اور پٹرولیم سیکٹر میں اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے۔
انہوں نے ریفائنریوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے صنعت اور حکومت کا مل کر کام کرنا ضروری ہے۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق حکومت کا طویل مدتی مقصد مسابقت کے ذریعے صارفین کو بہتر خدمات اور سستا ایندھن فراہم کرنا ہے۔ حکومت ریفائنریز کے تحفظات دور کرنے کے لیے بھی ان سے مشاورت جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے عالمی منڈی میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، آئی ایم ایف کی شرائط اور ملکی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدامات کیے ہیں تاکہ مشکل حالات میں عوام پر مزید بوجھ نہ پڑے۔
وزیرپیٹرولیم نے کہا کہ ایل پی جی کی قیمتوں کے حوالے سے بھی کام کیا جا رہا ہے امید ہے دو تین کے اندر اس معاملے میں عوام کو خوشخبری ملے گی۔
وزیراعظم کا وژن ہے عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے، عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پیٹرول کی قیمت میں متوقع 15 روپے فی لیٹر اضافہ نہیں ہونے دیا گیا، اضافے کا بوجھ مقامی آئل ریفائنریز برداشت کر رہی ہیں جبکہ فیول سبسڈی اسکیم کے تحت اب تک ڈیڑھ کروڑ سے زائد منفرد صارفین رجسٹرڈ ہو چکے ہیں اور 27 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا جا چکا ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا پہلے دن سے ویژن رہا ہے کہ عوام پر کم سے کم معاشی بوجھ ڈالا جائے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال سمیت عالمی حالات نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا، پاکستان کی معیشت بھی اس سے متاثر ہوئی تاہم ملک کے بڑے میکرو اکنامک انڈیکیٹرز مستحکم رہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول 15 روپے فی لیٹر مہنگا ہونا تھا، تاہم وزیراعظم کی ہدایت پر مقامی ریفائنریز کو یہ اضافہ برداشت کرنے کا کہا گیا۔ اس اقدام سے ریفائنریز پر ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا اور عوام کو پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے بچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ فیول سبسڈی اسکیم کے تحت موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو ہفتہ وار 500 روپے جبکہ 800 سی سی گاڑیوں کے صارفین کو ہر 10 دن میں 10 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت فراہم کی جا رہی ہے۔
عطا تارڑ کے مطابق اسکیم کے تحت منفرد رجسٹریشنز کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پیٹرول پمپس کو صارفین کو رعایتی نرخوں پر تیل فراہم کرنے کے بعد اگلے ہی روز رقم کی واپسی (ری ایمبرسمنٹ) بھی کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اب تک اسکیم کے تحت تقریباً 27 ارب روپے کا ریلیف دیا جا چکا ہے۔ اس اسکیم میں وزارت آئی ٹی، وزارت پیٹرولیم، اوگرا اور اسٹیٹ بینک سمیت متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیول سبسڈی اسکیم چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں جاری ہے اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔


