ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن (اے او او اے) پاکستان نے ملک میں 1500 سے زائد پاکستانی پائلٹس کی مبینہ بے روزگاری اور مقامی ایئرلائنز میں 150 سے زائد غیر ملکی پائلٹس کی بھرتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے غیر ملکی پائلٹس کی بھرتی سے متعلق قواعد و ضوابط پر نظرثانی کا مطالبہ کر دیا ۔
ایسوسی ایشن کے بانی عمران اسلم خان نے 29 اکتوبر کو سیکرٹری دفاع کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ایوی ایشن ڈویژن فوری مداخلت کرے اور مقامی ایئرلائنز میں پاکستانی پائلٹس کی ملازمت اور تربیت کو ترجیح دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ غیر ملکی پائلٹس کی بھرتی سے قابل پاکستانی ہوا بازوں کے روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں جبکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔
غیر ملکی پائلٹس کو ماہانہ 15 ہزار ڈالر تک تنخواہیں دینے کا دعویٰ
ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی ایئرلائنز میں کام کرنے والے غیر ملکی پائلٹس کو ماہانہ 15 ہزار امریکی ڈالر تک ٹیکس فری تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں۔
اے او او اے کے تخمینے کے مطابق اگر 150 سے زائد غیر ملکی پائلٹس کو یہ تنخواہیں دی جا رہی ہیں تو ماہانہ 22 لاکھ 50 ہزار ڈالر سے زائد زرمبادلہ بیرون ملک منتقل ہونے کا امکان ہے جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 62 کروڑ 32 لاکھ 50 ہزار روپے بنتا ہے۔
ائیر بلیو، فلائی جناح اور ائیر سیال میں غیر ملکی پائلٹس کی بھرتی پر اعتراض
عمران اسلم خان نے اپنے خط میں ایئربلیو، فلائی جناح اور ایئرسیال سمیت مقامی ایئرلائنز کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ کمپنیاں پاکستانی پائلٹس کی تربیت اور طیاروں کی مخصوص اقسام کی ریٹنگ حاصل کرنے پر سرمایہ کاری کرنے کے بجائے غیر ملکی پائلٹس پر انحصار کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی پائلٹس کی تربیت اور انہیں متعلقہ طیاروں کی ٹائپ ریٹنگ دلوانے پر آنے والی لاگت غیر ملکی پائلٹس کو دی جانے والی ماہانہ تنخواہوں کے مقابلے میں کم ہے، اس لیے مقامی ہوا بازوں کی تربیت اور بھرتی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
غیر ملکی پائلٹس کی مدت چھ ماہ سے بڑھا کر تین سال کرنے پر تحفظات
ایسوسی ایشن نے غیر ملکی پائلٹس کی پاکستان میں کام کرنے کی اجازت کی مدت میں مبینہ تبدیلی پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔
خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پہلے غیر ملکی پائلٹس کو چھ ماہ کے لیے کام کرنے کی اجازت تھی، جس میں مزید چھ ماہ کی توسیع ممکن تھی تاہم بعد ازاں یہ مدت بڑھا کر تین سال کر دی گئی۔

اے او او اے کے مطابق اس تبدیلی سے قبل ملکی ایوی ایشن انڈسٹری کے اہم اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی گئی۔ ایسوسی ایشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایئرلائنز غیر ملکی عملے کی باری باری تبدیلی کے ذریعے اس سہولت کو طویل عرصے تک استعمال کر سکتی ہیں۔
حکومت سے قوانین واپس لینے اور نگرانی سخت کرنے کا مطالبہ
ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی پائلٹس سے متعلق ریگولیٹری تبدیلیوں پر نظرثانی کرکے انہیں واپس لیا جائے، عملے کی تبدیلی کے انتظامات کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے نگرانی سخت کی جائے اور مقامی ایئرلائنز کو اہل پاکستانی پائلٹس کی بھرتی اور تربیت کا پابند بنایا جائے۔
عمران اسلم خان کا کہنا ہے کہ ملک میں تربیت یافتہ پاکستانی ہوا بازوں کی موجودگی کے باوجود غیر ملکی عملے پر انحصار مقامی ایوی ایشن انڈسٹری کی ترقی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
فروری 2024 میں بھی غیر ملکی پائلٹس کی بھرتی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا
غیر ملکی پائلٹس کی بھرتی کا معاملہ پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا۔ فروری 2024 میں بھی ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے مقامی ایئرلائنز کی جانب سے غیر ملکی پائلٹس کو ترجیح دینے پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے سینکڑوں پائلٹس بے روزگار ہیں۔
پاکستان کی نیشنل ایوی ایشن پالیسی 2023 کے تحت سول ایوی ایشن اتھارٹی کے طریقہ کار کے مطابق غیر ملکی فلائٹ کریو کے لائسنس کی توثیق زیادہ سے زیادہ ایک سال کے لیے کی جا سکتی ہے۔
تاہم جنوری 2025 میں وفاقی کابینہ نے 2025 میں پاکستانی ایئرلائنز میں شامل ہونے والے غیر ملکی پائلٹس کے لائسنس کی توثیق کی مدت تین سال کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس کے ساتھ پاکستان میں پہلے سے کام کرنے والے 86 غیر ملکی پائلٹس کے لیے دو سال کی توسیع بھی منظور کی گئی تھی۔
غیر ملکی پائلٹس کے لائسنس اور ویٹ لیز طیاروں کے قواعد الگ ہیں
ایوی ایشن کے ضابطہ جاتی نظام میں غیر ملکی پائلٹس کے لائسنس کی توثیق اور ویٹ لیز کے تحت غیر ملکی رجسٹرڈ طیاروں کو عارضی طور پر پاکستان میں چلانے کی اجازت دو الگ معاملات ہیں۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے قواعد کے مطابق ویٹ لیز پر حاصل کیے جانے والے غیر ملکی رجسٹرڈ طیاروں کو ابتدائی طور پر 120 دن تک آپریٹ کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جس میں توسیع کرکے زیادہ سے زیادہ 180 دن تک کیا جا سکتا ہے۔
یہ فرق اہم ہے کیونکہ غیر ملکی پائلٹ کے لائسنس کی توثیق کی مدت اور غیر ملکی طیارے کے ویٹ لیز انتظام کے تحت آپریشن کی مدت الگ الگ ضابطوں کے تحت آتی ہیں۔
مقامی پائلٹس کی تربیت اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر زور
ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے وزارت دفاع پر زور دیا ہے کہ پاکستانی پائلٹس کے روزگار کے تحفظ اور ملکی ایوی ایشن انڈسٹری کی ترقی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی ہوا بازوں کو ملازمتوں سے محروم رکھ کر غیر ملکی عملے پر انحصار جاری رکھنا نہ صرف ملکی ٹیلنٹ کے ضیاع کا باعث ہے بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی پائلٹس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے، ان کی پیشہ ورانہ تربیت بہتر بنانے اور مقامی ایئرلائنز میں ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو ترجیح دی جائے۔


