وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کاروباری برادری کو پیشکش کی ہے کہ وہ صوبے میں بزنس لے کر آئیں، ”میں نہیں پوچھوں گی آپ پیسہ کہاں سے لا رہے ہیں“۔
پنجاب انوویشن فارویلیواپرچونٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی ملک خود کو بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ کیے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی کیلئے صرف دوسری قوموں کی تیار کردہ اشیا کا صارف بننے کے بجائے خود تخلیق کار، صنعت کار اور عالمی معیشت میں مقابلہ کرنے والا ملک بننا ہوگا، پنجاب حکومت نے کاروبار، صنعت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے معاشی تبدیلی کا جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ دنیا، کاروبار، صنعتیں اور صارفین تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کی قیادت کریں گے یا تبدیلی ہمیں اپنے ساتھ لے جائے گی۔
انہوں نے پنجاب کے معاشی تبدیلی کے منصوبے ’پیوٹ‘ (PIVOT) کو صوبے کی معیشت کی ترقی کا روڈ میپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں صنعتی ویلیو چین، زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ، لائیو اسٹاک، آبی زراعت، ہنرمندی، سیاحت اور ڈیجیٹل معیشت سمیت مختلف شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں 55.7 فیصد حصہ ڈالتا ہے جبکہ صوبے کی افرادی قوت تقریباً 3 کروڑ 60 لاکھ ہے۔ پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جسے درست انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ ملک کا سب سے بڑا معاشی اثاثہ بن سکتی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں ہنرمندی کے مختلف اداروں اور محکموں کو ایک چھتری تلے جمع کیا گیا ہے تاکہ کاروباری شعبے کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت تیار کی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 12 ماہ میں 4 لاکھ نوجوانوں کو تربیت دے کر کاروباری شعبے کو ہنرمند افرادی قوت فراہم کی گئی جبکہ آئندہ سال مزید 6 لاکھ نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفکیشن بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ انہیں ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بہتر ملازمتیں اور تنخواہیں مل سکیں۔ بیرون ملک ملازمت حاصل کرنے والے نوجوانوں کی ویزا فیس اور سفری اخراجات میں مدد کیلئے نواز کارڈ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ آسان کاروبار اسکیم کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو 200 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، اس اسکیم سے ایک لاکھ 17 ہزار کاروبار سامنے آئے ہیں۔
ان کے مطابق کاروباری افراد کو 10 لاکھ روپے تک آسان کاروبار کارڈ جبکہ 5 کروڑ روپے تک قرض کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
مریم نواز نے ای بز (eBiz) پورٹل کو کاروباری اجازت ناموں کے حصول میں بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب فیکٹری، پیٹرول پمپ، ریسٹورنٹ اور ہوٹل سمیت مختلف کاروباروں کے اجازت ناموں کیلئے آن لائن درخواست دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس نظام کے ذریعے 2 لاکھ اجازت نامے جاری کیے جا چکے ہیں اور درخواست گزاروں کو دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے آن لائن جواب دیا جاتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کاروبار کیلئے امن و امان کی بہتر صورتحال انتہائی ضروری ہے۔ صنعت کاروں کو بھتہ خوری، اغوا اور لوٹ مار کے خوف سے آزاد ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور 25، 25 سال پرانے قبضے بھی ختم کرائے جا رہے ہیں۔ تجاوزات کے خاتمے کا مقصد بازاروں اور گزرگاہوں کو عوام کیلئے کھولنا ہے۔
مریم نواز نے سرکاری محکموں میں کرپشن کے خاتمے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس، فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اداروں میں رشوت لینے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، حتیٰ کہ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ میں بھی کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد ضرور کرایا جائے لیکن فیکٹریاں بند کرنا مسئلے کا حل نہیں، اس سے پیداوار اور مزدوروں کا روزگار متاثر ہوتا ہے۔
انہوں نے کاروباری شخصیات سے بھی اپیل کی کہ فوڈ سیفٹی اور صفائی کے قوانین پر عمل کریں اور ایسا غیر معیاری کھانا فروخت نہ کریں جس سے شہریوں، خصوصاً بچوں کی صحت متاثر ہو۔



