صدارتی ایوارڈ یافتہ پشتو موسیقی کے معروف گلوکار حاجی گلریز تبسم طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ۔
مرحوم مہابت خان کے فرزند تھے، دیگر سوگواران میں فیض تبسم، بختیار، باروز، جہانزیب، سمیر اور کمال شامل ہیں۔
حاجی گلریز پچھلے کچھ عرصہ سے عملی طور پر شوبز کی دنیا سے دور ہوچکے تھے۔ ان کی نماز جنازہ گزشتہ شب کاکا خیل ٹاؤن نمبر 1 رنگ روڈ پشاور میں ادا کی گئی بعدازاں انہیں آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
حاجی گلریز تبسم اپنے دور میں پشتو موسیقی اور اسٹیج کا بڑا نام تھے۔ انہوں نے کئی یادگار پشتو فلمی گیت و غزلیں گائیں اور اسٹیج شوز میں پرفارمنس دی۔ ان کے مشہور گیتوں میں ”زہ پہ برہ زما“ اور ”دا سور سالونا“ جیسے مقبول گانے شامل ہیں، وہ روایتی پشتو ’ٹپے‘ اور اسٹیج گلوکاری کے لیے بھی خاصے معروف تھے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گلوکار گلریز تبسم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، انہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی ۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گلریز تبسم کے انتقال سے پشتو موسیقی ایک ممتاز فنکار سے محروم ہوگئی ہے، ان کی فنی خدمات اور پشتو موسیقی کےلیے گراں قدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مشیرِ اطلاعات ثمر ہارون بلور نے بھی گلوکار گلریز تبسم کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گلریز تبسم نے اپنی زندگی کی نصف صدی موسیقی کے لیے وقف کیے رکھی اور پشتو موسیقی کو مقبول بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ فنی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔


