وفاقی حکومت نے بجلی کے 200 یونٹ کی حد عبور کرنے پر صارفین کو 6 ماہ تک زیادہ نرخ ادا کرنے کی پابندی ختم کرنے اور غریب گھرانوں کو ریلیف دینے کے لیے نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
موجودہ نظام کے تحت ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں شامل ہوتے ہیں اور انہیں تقریباً 13 روپے فی یونٹ سبسڈی ملتی ہے تاہم 200 یونٹ سے ایک یونٹ بھی تجاوز کرنے پر صارفین کو فی یونٹ 33 روپے تک نرخ ادا کرنا پڑ سکتے ہیں اور وہ اگلے 6 ماہ تک پروٹیکٹڈ صارفین کی رعایت سے محروم رہتے ہیں۔
سینیٹ میں معاملہ عابد شیر علی نے اٹھایا
یہ معاملہ سینیٹ میں مسلم لیگ(ن) کے رکن عابد شیر علی نے اٹھایا اور کہا کہ اگر کسی صارف کی ماہانہ بجلی کی کھپت 200 سے بڑھ کر 201 یونٹ ہوجائے تو فی یونٹ نرخ 15 روپے سے بڑھ کر 30 روپے ہوجاتا ہے۔ اس طرح صرف ایک اضافی یونٹ استعمال کرنے پر غریب صارف کو 400 یونٹ والے سلیب کے تحت بل ادا کرنا پڑتا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی نے اس مسئلے کو حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس نظام میں تبدیلی کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔
اویس لغاری نے سینیٹ کو بتایا کہ حکومت 200 یونٹ کی حد بڑھا کر 250 یونٹ کرنے پر بھی غور کر رہی ہے جبکہ مستقبل میں بجلی پر سبسڈی کا تعین صرف کھپت کے بجائے صارفین کی آمدن اور غربت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
سینیٹر عابد شیر علی کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نرخوں اور صارفین پر مالی بوجھ سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے مزید کہا کہ 200 یونٹ سے تجاوز کرنے پر 6 ماہ تک رعایت سے محرومی کا نظام ختم کرنے کے لیے کام تیز کردیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کے سامنے 2 تجاویز ہیں۔ پہلی تجویز کے تحت بجلی کے محفوظ صارفین (پروٹیکٹڈ) کی حد 200 سے بڑھا کر 250 یونٹ کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔
دوسری تجویز یہ ہے کہ صارف جس مہینے اپنی بجلی کی کھپت 200 یونٹ تک محدود رکھے، اسے اسی مہینے پروٹیکٹڈ صارف کی حیثیت سے سبسڈی دی جائے جبکہ 6 ماہ تک رعایت سے محرومی کی پابندی ختم کردی جائے۔
اویس لغاری نے کہا کہ اس منصوبے کو حتمی شکل دینے میں ڈیڑھ ماہ کا عرصہ لگے گا۔
پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد دوگنا ہوگئی
وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ 2 برس کے دوران سولر توانائی کے استعمال میں اضافے کے باعث پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ کر 2 سے ڈھائی کروڑ ہوگئی ہے جن میں بہت سے صارفین غریب نہیں ہیں۔ بعض ایسے صارفین بھی ہیں جو 700 سے 800 یونٹ بجلی استعمال کرتے ہیں لیکن سولر پینل لگانے کے بعد قومی گرڈ سے کھپت 200 یونٹ تک محدود کرکے سبسڈی حاصل کرتے ہیں۔
اویس لغاری کے مطابق، 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے ہر صارف کو یکساں رعایت دینا مناسب نہیں۔ حکومت پروٹیکٹڈ صارفین کو 65 فیصد سبسڈی دے رہی ہے، جس سے امیر اور غریب دونوں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی نے بجلی کے شعبے کی مالی صورت حال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ گردشی قرض کم ہوکر 1.6 سے 1.67 کھرب روپے رہ گیا ہے اور اب اس میں ہر سال اضافہ نہیں ہورہا۔ حکومت نے قرضوں کی تنظیم نو کے منصوبے کے تحت آئندہ 4 برس میں اسے ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی مدت میں بجلی کے بلوں میں شامل 3.23 روپے فی یونٹ ڈیبٹ سروسنگ سرچارج بھی ختم کردیا جائے گا۔
نقصانات کی تفصیلات
اویس لغاری کے مطابق 2024 میں شہباز شریف کے اقتدار سنبھالنے کے وقت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے سالانہ نقصانات، جن میں بجلی چوری اور وصولیوں کی کمی بھی شامل تھی، 591 ارب روپے تھے۔ ان کے بقول، نقصانات گزشتہ سال 360 ارب روپے سے کم ہوکر رواں سال 325 ارب روپے رہ گئے ہیں۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ 2024 میں وزارت توانائی کے پاور ڈویژن کو وزارت خزانہ سے بجٹ کی مد میں ایک ہزار 180 ارب روپے ملے تھے جبکہ رواں سال یہ رقم 700 سے 750 ارب روپے رہنے کی توقع ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی کا فائدہ ابھی تک صارفین کو منتقل نہیں کیا جاسکا، کیونکہ ان نقصانات کی ادائیگی وزارت خزانہ کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بجلی چوری روکنا حکومت کی اولین ترجیح ہے تاہم صارفین پر بلاجواز مالی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔
