نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہر فورم پر کشمیر کا مسئلہ بھرپور انداز میں اٹھایا، ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ ہر کشمیری اورپاکستانی کے دل کی آواز ہے۔
وزارت امور کشمیر کے زیر اہتمام ریڈیو پاکستان چوک سے ڈی چوک تک یوم سیاہ کی ریلی نکالی گئی، شرکا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کیخلاف نعرے بازی کی اس موقع پر شرکا نے بازو پر سیاہ پٹیاں اور سیاہ پرچم ہاتھوں میں تھام رکھے تھے۔
بعدازاں ڈی چوک میں تقریب منعقد ہوئی جس میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈا، وزیر امور کشمیر امیر مقام، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، چیئرمین کشمیر کمیٹی قاسم نون نے شرکت کی، تقریب میں حریت قیادت، سول سوسائٹی، سرکاری ملازمین سکول کالجز کے طلبہ کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔
وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر عالمی اور سفارتی فورم پر مسئلہ کشمیر پر آواز اٹھانا ہماری اولین ذمہ داری ہے،پاکستان ہر سال اور ہر بین الاقوامی موقع پر پرزور انداز میں مسئلہ کشمیر اٹھاتا ہے،ہم نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں بھی کشمیریوں کے حق کے لیے آواز اٹھائی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کی بدولت دنیا مسئلہ کشمیر کو بھولی نہیں،بھارت نے اپنے ہی آئین میں ترمیم کر کے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت ختم کی اور وہاں قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
اسحاق ڈارکا کہنا تھا عالمی فورم پر وزیر اعظم شہباز شریف اپنی تقریر میں جموں و کشمیر کا مسئلہ ہر وقت اٹھاتے ہیں،بطور وزیر خارجہ میرا بھی یہی کام ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت خود عالمی سطح پر تسلیم کر چکا ہے کہ کشمیر ایک تنازعہ ہے،5 اگست 2019 کو غیر قانونی اقدام اٹھایا گیا،مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے،مذہبی عبادات میں آزادی نہیں جمعہ کی نماز سے بھی روکا جارہا ہے۔پاکستان کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
قبل ازیں وزیر امور کشمیر امیر مقام کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 27اکتوبر 1947 وہ بدترین دن تھا جب بھارت نے جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا،مقبوضہ وادی میں 97 ہزار کشمیری شہید جبکہ ہزاروں افراد معذور ہو چکے ہیں۔عوام کا ولولہ اور جذبہ بتا رہا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ ۔
کنوینر کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ 7اکتوبر 1947 کے سانحے کو 80 سال ہونے والے ہیں،مقبوضہ کشمیر میں 10 لاکھ سے زائد بھارتی فورسز قابض ہیں جو کسی کو بھی بلاوجہ گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیتی ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت اور استصوابِ رائے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا،آئین میں الحاق کا حتمی فیصلہ کشمیریوں کی صوابدید پر رکھا گیا ہے۔
غلام محمد صفی کا کہنا تھا کہ بھارت دنیا کو گمراہ کر رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات نارمل ہیں اگر حالات نارمل ہیں تو وادی میں 10 لاکھ فوج کیوں موجود ہے؟


