پاکستان نے سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے حقِ دفاع کی مکمل حمایت کرتا ہے، اور بھارت کو بھی خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی امن کی کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور مئی 2025 کا جواب یاد رکھا جائے۔
اسلام آباد میں صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ حوثی باغیوں کے حملے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے 11 اکتوبر کو آر فور ممالک، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر ریاض ایئرپورٹ سمیت سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی تھی۔
ان کا کہنا تھا چاروں ممالک نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور مملکت کا اپنی سرزمین اور شہریوں کے دفاع کے جائز حق کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چاروں ممالک نے ان حملوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے پاکستان کے خلاف حالیہ بیان سے متعلق سوال کیا گیا جس پر انہوں نے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کے اس دھمکی آمیز بیان کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع کے بیان سے بھارت کی نام نہاد بالادستی کی سوچ ظاہر ہوتی ہے اور اس سے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
راج ناتھ سنگھ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ پاکستان سے ہونے والی کسی بھی آئندہ ’دہشت گردی کی کارروائی‘ کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے امن کے عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور ملک سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس بیان پر دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہے اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دے گا۔
انہوں نے بھارت کو گزشتہ سال مئی میں پاکستان کے خلاف فوجی محاذ آرائی سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس موقع پر اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا تھا۔
”ہم بھارت کو اس کی گزشتہ سال کی فوجی جارحیت کے نتائج یاد دلانا چاہتے ہیں، جب پاکستان نے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اپنی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا اور بھارتی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا۔“
سجاد حیدر خان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے تحمل اور پر امن سوچ کو ہرگز کمزوری نہ سمجھے اور جارحانہ طرزِ عمل اور خطرناک بیان بازی ترک کرکے خطے میں پائیدار امن کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔
سفارتی سرگرمیوں کا احوال
رواں ہفتے کی سفارتی سرگرمیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے 18 دیگر ممالک کے ساتھ کولمبیا کے یروشلم میں سفارت خانے کا افتتح کرنے کی مذمت کی، اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور فلسطین کے 2 ریاستی حل کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے ہونے والی پیش رفت کے بارے میں ترجمان کا کہنا تھا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نے 13 سے 14 اکتوبر 2026 تک پاکستان کا دورہ کیا اور پاک۔عمان وزاتی کمیشن کے آٹھویں سیشن کی مشترکہ صدارت کی اور 5 نئے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے 14 اکتوبر 2026 کو روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف سے ملاقات کی جس میں تجارت، سرمایہ کاری، ثقافت اور سیکیورٹی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون، اور شنگھائی تعاون تنظیم کے ذریعے کثیر الجہتی ہم آہنگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی وزیرِ داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف کا چار روزہ دورۂ پاکستان مکمل
روس کے وزیرِ داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف نے 12 سے 15 اکتوبر تک پاکستان کے دورے کے دوران اپنے پاکستانی ہم منصب، وفاقی وزیرِ داخلہ و انسدادِ منشیات محسن نقوی، اور ملک کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ان میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شامل تھے۔
وزیرِ اعظم پاکستان سے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کی امورِ داخلہ کی وزارتوں کے درمیان بین الاقوامی منظم جرائم کے خلاف تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
ولادیمیر کولوکولتسیف نے روس اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات، تعمیری تعاون اور باہمی مفادات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور اقوامِ متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی فورمز پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
مذاکرات میں بین الاقوامی منظم جرائم، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے انسداد، اسلحے اور منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام اور سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے تعاون پر خصوصی توجہ دی گئی۔ روسی وزیرِ داخلہ نے معلومات کے فوری تبادلے، انٹرپول کے ذریعے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور سائبر جرائم کی تحقیقات کے شعبے میں تجربات اور مہارت کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔
روسی وزیرِ داخلہ نے پیشہ ورانہ تربیت کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کا بھی خیرمقدم کیا اور پاکستانی ماہرین کے لیے تربیتی پروگراموں کو وسعت دینے پر روس کی آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی صدارت دونوں ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر اور عملی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
دورۂ پاکستان کے دوران ولادیمیر کولوکولتسیف نے نادرا، اے این ایف اور یادگارِ پاکستان کا دورہ کیا۔ یادگارِ پاکستان پر انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ روسی وزیرِ داخلہ نے پاکستانی پولیس کے دستوں کی پریڈ بھی دیکھی اور قانون نافذ کرنے والے پاکستانی اداروں کے نمایاں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کو اعزازات سے نوازا۔
دورے کے اختتام پر روسی وزیرِ داخلہ نے پرتپاک استقبال اور تعمیری مذاکرات پر پاکستانی حکام کا شکریہ ادا کیا۔
— Embassy of Russia in Pakistan (@RusEmbPakistan) October 16, 2026
اس کے علاوہ ترجمان نے بریف کیا کہ اسحاق ڈار نے مالدیپ، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے، غزہ کی صورتحال اور اسلامی تعاون تنظیم کے آئندہ اجلاسوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
نوٹ: خبر میں مزید تفصیلات شامل کی جا رہی ہیں۔
