انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی کے لیے لگائے گئے بیریئر ہٹانے سے متعلق مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست نمٹا دی۔
عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو عدالتی حکم کے باوجود پیش نہ کرنے پر جیل حکام سے وضاحت بھی طلب کی۔ سماعت میں وقفے کے بعد جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد پولیس نے ملزمان کو عدالت لانے کے لیے سکیورٹی فراہم نہیں کی۔
جج طاہر عباس سپرا نے ابتدا میں دونوں ملزمان کی عدم پیشی پر جیل حکام کے کسی نمائندے کے عدالت میں موجود نہ ہونے کا نوٹس لیا اور استغاثہ و پولیس حکام کو ہدایت کی کہ جیل انتظامیہ سے رابطہ کرکے عدم پیشی کی وجہ معلوم کریں۔ عدالت نے وضاحت جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت میں وقفہ بھی کیا۔
وکیل ایمل خان نے استدعا کی کہ دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت پہلے ہی حکم دے چکی ہے کہ ملزمان کو ذاتی طور پر یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے۔ بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ ایمان مزاری کی والدہ ڈاکٹر شیریں مزاری بھی وکلا زینب جنجوعہ اور ایمل خان کے ہمراہ عدالت میں موجود تھیں۔
سماعت کے دوران زینب جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے فردِ جرم عائد کیے جانے کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے اور اس درخواست پر پیر کو سماعت مقرر ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ ہائی کورٹ کے فیصلے تک ٹرائل کی کارروائی مؤخر کی جائے۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ اگر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیتی ہے تو کارروائی ختم ہو جائے گی، تاہم وہاں درخواست دائر ہونے سے ٹرائل کورٹ کی کارروائی خودبخود نہیں رکتی۔
یاد رہے کہ عدالت نے منگل کو دونوں ملزمان پر فردِ جرم عائد کی تھی۔ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں مقدمے کے ریکارڈ کی نقول فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی وکلا سے ملاقات کا موقع دیا گیا۔
ویڈیو لنک پر پیشی کے دوران ہادی چٹھہ نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور باقاعدگی سے عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسی عدالت سے یہ سیکھا ہے کہ منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے کیے بغیر عدالتی کارروائی نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا جا رہا اور آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت منصفانہ ٹرائل کے حق کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اخبارات میں فردِ جرم عائد کیے جانے کی خبروں کا بھی حوالہ دیا۔
عدالت نے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے وکلا کے دلائل سنے بغیر اس مرحلے پر مطلوبہ ریلیف دینا مناسب نہیں، جبکہ وکلا نے کارروائی کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔
جیل حکام کی رپورٹ کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو عدالت نہ لانے کی وجہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے سکیورٹی اسکواڈ فراہم نہ کرنا تھی۔ زینب جنجوعہ نے کہا کہ ایک طرف ریاست عدالت سے استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کی درخواست کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف وہی ریاست ملزمان کی پیشی کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتِ حال سے ملزمان کے منصفانہ ٹرائل کا حق متاثر ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ 23 جنوری سے جیل میں ہیں۔ انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے ساتھ مبینہ دست درازی کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
گرفتاری کے اگلے ہی روز سیشن عدالت نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی مختلف دفعات کے تحت دونوں کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے ان سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلوں کے حتمی فیصلے تک دونوں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم، چند گھنٹوں بعد اسلام آباد پولیس نے انہیں ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے بعد ازاں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
یہ نیا مقدمہ گزشتہ سال 22 مارچ کو اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا تھا جس میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر حکومت مخالف نعرے لگانے اور سڑکیں بند کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
